قیدِ ہستی میں ہوں اپنے فرض کی تعمیل تک
اک نئی دُنیا، نئے انسان کی تشکیل تک
دام ہم رنگِ زمیں پھیلا دیا صیّاد نے
وادیٔ گنگ و جمن سے رُود بارِ نیل تک
آنکھ سے بہہ جائے گا دل میں اگر باقی رہا
قطرۂ خوں داستان درد کی تکمیل تک
شاعری کا ساز ہے وہ ساز ہو جس ساز میں
نغمۂ رُوح الامیں سے بانگِ اسرافیل تک
تُو ہی اسرارِ سخن سے ہے ابھی نا آشنا
ورنہ اس اجمال میں موجود ہے تفصیل تک
بس نہیں چلتا ہے ان کا ورنہ یہ ظُلمت پرست
اپنی پُھونکوں سے بُجھا دیں عرش کی قندیل تک
اشک! اپنے سینۂ پُر خُوں میں سیلِ اشک بھی
روک رکھتا ہوں جگر کے خُون کی تحلیل تک
اشک امرتسری
محمد امین
No comments:
Post a Comment