زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے
سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر
کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے
سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر
کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں
مارا گیا تھا جنگ میں، ہارا نہیں تھا میں
مجھ سے ہی مجھ کو وقت نے تفریق کر دیا
جو تیرے سامنے تھا وہ سارا نہیں تھا میں
میں تیرے چونچلوں پہ انا کیسے بیچتا
اے زندگی! غلام تمہارا نہیں تھا میں
مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے
نوکِ نیزہ سے مِرا سر نہ اتارا جائے
شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا
سورج اک بار مِرے دل سے گزارا جائے
اس کی یہ ضد کہ مِرا قتل پس پردہ ہو
مِری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے
اس لیے دربار تک آنے میں کچھ تاخیر کی
جان نکلی جا رہی تھی پاؤں میں زنجیر کی
اس جگہ پر بددعائیں دفن ہیں زیرِ زمیں
جس جگہ پر سانس رکتی ہے تری جاگیر کی
مار ڈالوں گا تری گریہ و زاری کی قسم
اے مرے یوسف بتا کس نے تری تحقیر کی؟
جب شام ڈھلے ہِجر تِرا مجھ سے مِلا تھا
میں اشکوں کے جلتے ہوئے خیموں میں کھڑا تھا
انعام زدہ چہروں پہ خِفت تھی خوشی کی
دربار میں اک تن سے جُدا سر بھی پڑا تھا
یہ دریا تِرے ساتھ مجھے لے ہی چلے تھے
صد شکر سمندر نے مجھے تھام لیا تھا
یہ خزانہ دل سودائی! کسے دیتا میں
اس کی بخشش تھی یہ تنہائی کسے دیتا میں
اس تِرے عہد کے روتے ہوئے لوگوں میں سے
حاکمِ وقت یہ شہنائی کسے دیتا میں
جس کو دے دیتا اُسے تُو ہی دِکھائی دیتا
بعد مرنے کے یہ بِینائی کسے دیتا میں