Showing posts with label نصیر بلوچ. Show all posts
Showing posts with label نصیر بلوچ. Show all posts

Saturday, 10 October 2026

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے 

سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر 

کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

Tuesday, 22 April 2025

اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں

 اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں

مارا گیا تھا جنگ میں، ہارا نہیں تھا میں

مجھ سے ہی مجھ کو وقت نے تفریق کر دیا

جو تیرے سامنے تھا وہ سارا نہیں تھا میں

میں تیرے چونچلوں پہ انا کیسے بیچتا

اے زندگی! غلام تمہارا نہیں تھا میں

Saturday, 1 March 2025

مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے

 مارا اس شرط پہ اب مجھ کو دوبارہ جائے 

نوکِ نیزہ سے مِرا سر نہ اتارا جائے 

شام سے پہلے کسی ہجر میں مر جائے گا

سورج اک بار مِرے دل سے گزارا جائے 

اس کی یہ ضد کہ مِرا قتل پس پردہ ہو 

مِری خواہش مجھے بازار میں مارا جائے 

Wednesday, 29 May 2024

اس لیے دربار تک آنے میں کچھ تاخیر کی

 اس لیے دربار تک آنے میں کچھ تاخیر کی

جان نکلی جا رہی تھی پاؤں میں زنجیر کی

اس جگہ پر بددعائیں دفن ہیں زیرِ زمیں

جس جگہ پر سانس رکتی ہے تری جاگیر کی

مار ڈالوں گا تری گریہ و زاری کی قسم

اے مرے یوسف بتا کس نے تری تحقیر کی؟

Monday, 9 January 2023

جب شام ڈھلے ہجر ترا مجھ سے ملا تھا

جب شام ڈھلے ہِجر تِرا مجھ سے مِلا تھا

میں اشکوں کے جلتے ہوئے خیموں میں کھڑا تھا

انعام زدہ چہروں پہ خِفت تھی خوشی کی

دربار میں اک تن سے جُدا سر بھی پڑا تھا

یہ دریا تِرے ساتھ مجھے لے ہی چلے تھے

صد شکر سمندر نے مجھے تھام لیا تھا

Monday, 4 July 2022

یہ خزانہ دل سودائی کسے دیتا میں

یہ خزانہ دل سودائی! کسے دیتا میں 

اس کی بخشش تھی یہ تنہائی کسے دیتا میں 

اس تِرے عہد کے روتے ہوئے لوگوں میں سے 

حاکمِ وقت یہ شہنائی کسے دیتا میں 

جس کو دے دیتا اُسے تُو ہی دِکھائی دیتا 

بعد مرنے کے یہ بِینائی کسے دیتا میں