یہ خزانہ دل سودائی! کسے دیتا میں
اس کی بخشش تھی یہ تنہائی کسے دیتا میں
اس تِرے عہد کے روتے ہوئے لوگوں میں سے
حاکمِ وقت یہ شہنائی کسے دیتا میں
جس کو دے دیتا اُسے تُو ہی دِکھائی دیتا
بعد مرنے کے یہ بِینائی کسے دیتا میں
دستکیں دے کے بھری بستی کے دروازوں پر
وہ شبِ ہجر جو لوٹ آئی کسے دیتا میں؟
میں کہ عزت کے عِوض جس کو اُٹھا لایا تھا
تیرے کُوچے کی وہ رُسوائی کسے دیتا میں
نصیر بلوچ
No comments:
Post a Comment