Showing posts with label لکی فاروقی حسرت. Show all posts
Showing posts with label لکی فاروقی حسرت. Show all posts

Friday, 23 October 2026

غزل کی آگ قلم کی گھٹن برائے فروخت

 غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت

یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت

کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے

یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت

بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں

بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت

Friday, 9 January 2026

دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا

 دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا

میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا

گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی

میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا

ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے

سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا

Sunday, 24 August 2025

کج کلاہوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

 کج کلاہوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

چور اچکوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

اپنی آنکھوں سے کہو بولیں مگر آہستہ

ان چراغوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

وجہ تہمت ہیں مِرے جسم پہ بوسوں کے نشاں

کچھ گناہوں نے بہت شور مچا رکھا ہے

Friday, 15 August 2025

عشق تاروں سے نہ مہتاب سے دلداری کی

 عشق تاروں سے نہ مہتاب سے دلداری کی

رات نے دھوپ کے بستر پہ سیہ کاری کی

میں وہ دہقان جنوں خیز ہوں جس نے اپنے

جسم کے کھیت میں زخموں کی شجرکاری کی

مدتوں لٹکی رہی موم کی زنجیر سے لاش

برف کے سوکھے ہوئے پیڑ پہ چنگاری کی

Sunday, 27 December 2020

خوف کی آخری منزل سے بنا کر رکھیے

خوف کی آخری منزل سے بنا کر رکھیے

اس کا مطلب ہے کہ قاتل سے بنا کر رکھیے

باہمی ربط میں ہوتی نہیں گنجائشِ ترک

آپ دریا ہیں تو ساحل سے بنا کر رکھیے

عقل کہتی ہے محبت سے نہ رکھو نسبت

دل یہ کہتا ہے مسائل سے بنا کر رکھیے