غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت
یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت
کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے
یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت
بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں
بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت
غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت
یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت
کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے
یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت
بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں
بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت
دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا
میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا
گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی
میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا
ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے
سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا
کج کلاہوں نے بہت شور مچا رکھا ہے
چور اچکوں نے بہت شور مچا رکھا ہے
اپنی آنکھوں سے کہو بولیں مگر آہستہ
ان چراغوں نے بہت شور مچا رکھا ہے
وجہ تہمت ہیں مِرے جسم پہ بوسوں کے نشاں
کچھ گناہوں نے بہت شور مچا رکھا ہے
عشق تاروں سے نہ مہتاب سے دلداری کی
رات نے دھوپ کے بستر پہ سیہ کاری کی
میں وہ دہقان جنوں خیز ہوں جس نے اپنے
جسم کے کھیت میں زخموں کی شجرکاری کی
مدتوں لٹکی رہی موم کی زنجیر سے لاش
برف کے سوکھے ہوئے پیڑ پہ چنگاری کی
خوف کی آخری منزل سے بنا کر رکھیے
اس کا مطلب ہے کہ قاتل سے بنا کر رکھیے
باہمی ربط میں ہوتی نہیں گنجائشِ ترک
آپ دریا ہیں تو ساحل سے بنا کر رکھیے
عقل کہتی ہے محبت سے نہ رکھو نسبت
دل یہ کہتا ہے مسائل سے بنا کر رکھیے