دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا
میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا
گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی
میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا
ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے
سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا
کسی بھی زخم نے بیعت نہ کی شہادت سے
مِرا جہاد کراہوں میں جا کے لیٹ گیا
کچھ ایسے جھوٹ کو پہنایا اس نے سچ کا لباس
یقین وہم کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا
لکی فاروقی حسرت
No comments:
Post a Comment