Friday, 9 January 2026

دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا

 دعا کی نرم پناہوں میں جا کے لیٹ گیا

میں بھیک مانگتے شاہوں میں جا کے لیٹ گیا

گزشتہ رات زمانے کی آنکھ لگتے ہی

میں ایک چاند کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا

ہر اک زبان پہ غیبت کے پھنسی پھوڑے تھے

سو کار خیر گناہوں میں جا کے لیٹ گیا

کسی بھی زخم نے بیعت نہ کی شہادت سے

مِرا جہاد کراہوں میں جا کے لیٹ گیا

کچھ ایسے جھوٹ کو پہنایا اس نے سچ کا لباس

یقین وہم کی باہوں میں جا کے لیٹ گیا


لکی فاروقی حسرت

No comments:

Post a Comment