خطا بھی مجھ سے ہوئی ہے لہو لہو میں ہوں
سزا بھی خود کو ہی دے دے کے سرخرو میں ہوں
اسے یہ فخر کہ بدنام کر دیا مجھ کو
مجھے یہ ناز کہ موضوعِ گفتگو میں ہوں
کبھی کبھی مجھے ایسا گمان ہوتا ہے
وہ میرے سامنے ہے اس کے روبرو میں ہوں
اس اعتماد نے دل کو سنبھال رکھا ہے
وہ آرزو ہے میرے اس کی آرزو میں ہوں
میرے گمان سے باہر وہ جا نہیں سکتا
اسے بھی اس کا یقیں ہے کہ چار سُو میں ہوں
یہ کون مجھ میں اترتا ہے لمحہ لمحہ سحر
کوئی بتائے مجھے کس کی جستجو میں ہوں
سحر سعیدی
منیرالدین
No comments:
Post a Comment