Friday, 23 January 2026

خطا بھی مجھ سے ہوئی ہے لہو لہو میں ہوں

 خطا بھی مجھ سے ہوئی ہے لہو لہو میں ہوں

سزا بھی خود کو ہی دے دے کے سرخرو میں ہوں

اسے یہ فخر کہ بدنام کر دیا مجھ کو

مجھے یہ ناز کہ موضوعِ گفتگو میں ہوں

کبھی کبھی مجھے ایسا گمان ہوتا ہے

وہ میرے سامنے ہے اس کے روبرو میں ہوں

اس اعتماد نے دل کو سنبھال رکھا ہے

وہ آرزو ہے میرے اس کی آرزو میں ہوں

میرے گمان سے باہر وہ جا نہیں سکتا

اسے بھی اس کا یقیں ہے کہ چار سُو میں ہوں

یہ کون مجھ میں اترتا ہے لمحہ لمحہ سحر

کوئی بتائے مجھے کس کی جستجو میں ہوں


سحر سعیدی

منیرالدین

No comments:

Post a Comment