میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا
ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا
افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی
سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا
دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے
میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا
جو خود کو کہہ رہا تھا مسیحائے زندگی
وہ زندگی کے درد سے خود چیختا رہا
بیکار خواہشوں کے تعاقب میں عمر بھر
سائے کی طرح شام تک وہ ہانپتا رہا
راس آیا زندگی میں اندھیرا مجھے سدا
سورج کی آرزو میں سدا بھاگتا رہا
ڈستے ہیں خواہشوں کے وہی ناگ اب مجھے
نقوی میں آستیں میں جنہیں پالتا رہا
محمد صدیق نقوی
No comments:
Post a Comment