Tuesday, 13 January 2026

میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا

 میں اپنی حسرتوں کا گلہ گھونٹتا رہا

ہر شخص مسکرا کے مجھے دیکھتا رہا

افسوس حادثات کی اتنی تھی تیرگی

سایہ بھی اپنا ساتھ وہاں چھوڑتا رہا

دشمن سا ہو گیا ہے مرا نفس اس لیے

میں زندگی کی جنگ سدا ہارتا رہا

جو خود کو کہہ رہا تھا مسیحائے زندگی

وہ زندگی کے درد سے خود چیختا رہا

بیکار خواہشوں کے تعاقب میں عمر بھر

سائے کی طرح شام تک وہ ہانپتا رہا

راس آیا زندگی میں اندھیرا مجھے سدا

سورج کی آرزو میں سدا بھاگتا رہا

ڈستے ہیں خواہشوں کے وہی ناگ اب مجھے

نقوی میں آستیں میں جنہیں پالتا رہا


محمد صدیق نقوی

No comments:

Post a Comment