مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے
کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے
وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج
وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے
صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں
چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے
مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے
کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے
وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج
وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے
صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں
چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے
کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی
غزل سے زندگی کی مرثیہ خوانی نہیں جاتی
ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی اجداد کی شوکت
ہماری گُفتگو سے بُوئے سُلطانی نہیں جاتی
صدائیں دے رہی ہیں دیر سے خُوش بختیاں لیکن
نکل کر خواب گاہوں سے تن آسانی نہیں جاتی
مستحق کون ہے ہم لوگ یہ کب دیکھتے ہیں
بھیک بھی دیتے ہیں تو نام و نسب دیکھتے ہیں
شہرِ مجبور کا ہم حال عجب دیکھتے ہیں
ہر کہیں پھیلا ہوا دستِ طلب دیکھتے ہیں
سوچتا ہوں کہ بصیرت کی کسوٹی کیا ہے
دیکھنے والے تو اعزاز و لقب دیکھتے ہیں
دُنیا کی خاطر نادانی کرتے ہیں
پاگل ہیں جو خُون کو پانی کرتے ہیں
منظر منظر کرب و بلا کا موسم ہے
ہم بھی غزل میں نوحہ خوانی کرتے ہیں
نیند اُڑا کر لے جاتی ہے خوابوں کو
جاگ کے آنکھوں کی نگرانی کرتے ہیں
غموں کے قصے نہ افسانۂ طرب لکھنا
قلم اٹھاؤ تو جینے کا کچھ سمجھ لکھنا
ہر ایک ہاتھ میں تھا کاسۂ طلب لکھنا
جو لکھ سکو تو کرشماتِ روز و شب لکھنا
ہجومِ خواب میں کھوئی ہوئی تھیں سب آنکھیں
محاذ شب میں تنہا تھا تم یہ سب لکھنا