Showing posts with label ندیم عرشی. Show all posts
Showing posts with label ندیم عرشی. Show all posts

Thursday, 10 September 2026

مرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

 مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے

وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج

وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے

صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں

چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے

Friday, 30 January 2026

کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی

 کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی

غزل سے زندگی کی مرثیہ خوانی نہیں جاتی

ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی اجداد کی شوکت

ہماری گُفتگو سے بُوئے سُلطانی نہیں جاتی

صدائیں دے رہی ہیں دیر سے خُوش بختیاں لیکن

نکل کر خواب گاہوں سے تن آسانی نہیں جاتی

Friday, 10 January 2025

مستحق کون ہے ہم لوگ یہ کب دیکھتے ہیں

 مستحق کون ہے ہم لوگ یہ کب دیکھتے ہیں

بھیک بھی دیتے ہیں تو نام و نسب دیکھتے ہیں

شہرِ مجبور کا ہم حال عجب دیکھتے ہیں

ہر کہیں پھیلا ہوا دستِ طلب دیکھتے ہیں

سوچتا ہوں کہ بصیرت کی کسوٹی کیا ہے

دیکھنے والے تو اعزاز و لقب دیکھتے ہیں

Thursday, 19 December 2024

دنیا کی خاطر نادانی کرتے ہیں

 دُنیا کی خاطر نادانی کرتے ہیں

پاگل ہیں جو خُون کو پانی کرتے ہیں

منظر منظر کرب و بلا کا موسم ہے

ہم بھی غزل میں نوحہ خوانی کرتے ہیں

نیند اُڑا کر لے جاتی ہے خوابوں کو

جاگ کے آنکھوں کی نگرانی کرتے ہیں

Tuesday, 17 December 2024

غموں کے قصے نہ افسانۂ طرب لکھنا

 غموں کے قصے نہ افسانۂ طرب لکھنا

قلم اٹھاؤ تو جینے کا کچھ سمجھ لکھنا

ہر ایک ہاتھ میں تھا کاسۂ طلب لکھنا

جو لکھ سکو تو کرشماتِ روز و شب لکھنا

ہجومِ خواب میں کھوئی ہوئی تھیں سب آنکھیں

محاذ شب میں تنہا تھا تم یہ سب لکھنا