عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہا تھا ایک دن
ورقہ بن نوفل نے کبریٰؓ سے
فرشتہ جو بھی آیا ابنِ عبداللہﷺ سے ملنے
وہ ان سے پہلے آیا تھا
کبھی موسیٰؑ کی خدمت میں
کبھی عیسیٰؑ کی خدمت میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہا تھا ایک دن
ورقہ بن نوفل نے کبریٰؓ سے
فرشتہ جو بھی آیا ابنِ عبداللہﷺ سے ملنے
وہ ان سے پہلے آیا تھا
کبھی موسیٰؑ کی خدمت میں
کبھی عیسیٰؑ کی خدمت میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بڑھیا کی تم لاٹھی بنے، مجبور کا ساتھی بنے
اک تم بھی ہو اس شہر میں
اک وہ بھی ہیں اس شہر میں
جن کے سحر کے خوف سے
ترکِ وطن کرتی ہوں میں
بیٹا تمہارا نام کیا؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت کہنے کا جوں ہی ارادہ کیا
ذہن و دل پر عجب خوف طاری ہوا
کس زباں سے کروں ان کی نعت و ثنا
میں خطا کار ہوں، وہ حبیبِ خدا
خالق دو جہاں ، قادر کُن فکاں
انﷺ کا رطب الساں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ ہادی
جس کو فکر دو جہاں لاحق تھی برسوں سے
مسائل ذہن میں تھے
اور نظر تھی سارے عالم پر
زمانے بھر کی بد چلنی نے جب بیتاب کر ڈالا
قدم بڑھنے لگے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ پتھر ایک تھا
لیکن قبائل ایک سے زائد
وہ کار خیر تھا
لیکن، رکاوٹ آ گئی اس میں
قبیلہ کوئی بھی اس بات پر راضی نہ ہوتا تھا
کہ کار خیر ہے، اور خیر سے انجام کو پہنچے