Saturday, 10 August 2024

وہ پتھر ایک تھا لیکن قبائل ایک سے زائد

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 وہ پتھر ایک تھا

لیکن قبائل ایک سے زائد

وہ کار خیر تھا

لیکن، رکاوٹ آ گئی اس میں

قبیلہ کوئی بھی اس بات پر راضی نہ ہوتا تھا

کہ کار خیر ہے، اور خیر سے انجام کو پہنچے

بضد ہر اک قبیلہ تھا

کہ پتھر کو وہی رکھے

نتیجہ صاف ظاہر ہے

ہر اک کے ہاتھ میں تلوار تھی

آنکھوں میں غصہ تھا

کسی کو اس پہ حیرت تھی

نہ کوئی غمزدہ اس سے

مگر سمجھوتہ کر لینا

اچانک نوجواں اک سامنے آیا

کہ جس کے مشورہ پر

متفق سارے قبائل تھے

امینِ وقت نے اس دم

خود اپنے دستِ اقدس سے

ادائے امن کو پھیلا دیا دھرتی کے سینے پر

اسی چادر میں رکھا

حجر اسود کو محمدﷺ نے

سبھی ہاتھوں نے جب چادر کو تھاما

ہو گئے شاداں

عداوت مٹ چکی تھی

امن کا سورج منور تھا


ایس ایم عقیل

No comments:

Post a Comment