عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے
سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے
دل کی نظر سے خالقِ دل پر نظر کریں
اہلِ دل سے میری یہی التماس ہے
ہر چیز سے عیاں ہیں وہ ہر چیز میں نہاں
پتوں میں اس کا رنگ ہے پُھولوں میں باس ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے
سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے
دل کی نظر سے خالقِ دل پر نظر کریں
اہلِ دل سے میری یہی التماس ہے
ہر چیز سے عیاں ہیں وہ ہر چیز میں نہاں
پتوں میں اس کا رنگ ہے پُھولوں میں باس ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے کیف ہے حیات تِرےؐ ذِکر کے بغیر
بنتی نہیں ہے بات ترے ذکر کے بغیر
بھولیں جو تیرا نام تو بگڑیں تمام کام
ہے زندگی ممات ترے ذکر کے بغیر
ہے موت بھی حیات تِری یاد کے طفیل
ہے دوپہر بھی رات ترے ذکر کے بغیر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیؐ کی یاد ہی سے روحِ مؤمن شاد ہوتی ہے
نبیؐ کے ذکر ہی سے بزمِ دل آباد ہوتی ہے
نبیؐ سے عشق کا دعویٰ سر آنکھوں پر مگر اے دوست
محبت کیا عمل کی قید سے آزاد ہوتی ہے؟
ہم ایسے خود غرض عشّاق ہیں جو اپنے آقاؐ کی
اطاعت بُھول جاتے ہیں، شفاعت یاد رہتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُو اعلیٰ ہے ارفع ہے، کیا خُوب ہے
تُو سچا ہے، پیارا ہے، محبُوب ہے
تُجھے ڈھونڈتا ہوں میں شام و سحر
میں طالب ہوں، تُو میرا مطلُوب ہے
نہ کیوں آئے پیتے ہی رگ رگ میں جاں
کہ ذکرِ الہٰی کا مشرُوب ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سُنتؐ کا تِرے رُخ پہ اگر نُور نہیں ہے
محبوبﷺ کو یہ عاشقی منظور نہیں ہے
کس منہ سے کرتا ہے دعوئ غلامی
آقاﷺ کی محبت سے جو مجبور نہیں ہے
باطن میں نہیں پائے گا تو عشق کی رونق
ظاہر تیرا سُنتؐ سے جو معمور نہیں ہے
دیکھیے تو وہ نظر آتے ہیں شاہانہ مزاج
جانچیے تو ان کا باطن ہے فقیرانہ مزاج
جامعِ اضداد ہوتے ہیں ہمیشہ اہلِ دل
ہوش میں رہتے ہوئے رہتے ہیں دیوانہ مزاج
پڑتی ہے شانِ کریمیﷻ کی تجلّی مستقل
جب ہی اہل اللہ رکھتے ہیں کریمانہ مزاج
جذبۂ عشّاق کام آنے کو ہے
پھر لذیذ و شیریں جام آنے کو ہے
موسم سرما کی آمد مرحبا
کیونکہ اس موسم میں آم آنے کو ہے
ختم ہونے کو ہے وقتِ انتظار
انتخابِ خاص و عام آنے کو ہے