Showing posts with label ابرار حامد. Show all posts
Showing posts with label ابرار حامد. Show all posts

Monday, 26 December 2016

دریا کے کناروں سے بھی سیلاب رکا کیا

دریا کے کناروں سے بھی سیلاب رکا کیا
جائز ہے جفا کاروں سے بھی کوئی گِلہ کیا
بے لوث کہاں ہوتی ہے اغراض پرستی
پتھر پہ اثر کرتی کبھی دیکھی دوا کیا؟
بجھ جاتی ہے گو پیاس تو کچھ پانی بھی پی کر
پر پیٹ ہوا کھا کے کبھی کوئی بھرا کیا

ہمارا جرم ہے یہ ہم زمانہ ساز نہیں

ہمارا جرم ہے یہ ہم زمانہ ساز نہیں
فریب کار نہیں، یعنی چال باز نہیں
کسی سے ذکر بھی کیوں کرتے اپنی غربت کا
کسی کے آگے ہُوا دست ہی دراز نہیں
کبھی غرض کوئی پوجی نہ اسکا سوچا بھی
ہمیں تو جاں نثاری پہ اپنی ناز نہیں

خوش بخت ہیں آزاد ہیں جو اپنے سخن میں

خوش بخت ہیں آزاد ہیں جو اپنے سخن میں
خوش بخت ہیں جو قید ہے نیکی کے چلن میں
اس آنکھ نے کیا ہوتا ہُوا دیکھ لیا ہے
بھونچال سا برپا ہے عجب میرے بدن میں
جو کام کرو جب بھی کرو ڈوب کے اس میں
ہر ایک تحیر ہے جنوں زار لگن میں

Saturday, 30 January 2016

کیا کیا دھرے عجوبے ہیں شہر خیال میں

کیا کیا دھرے عجوبے ہیں شہرِ خیال میں
بیتے خوشی سے دن تو کٹے شب ملال میں
شاید کہ شب کی تہ میں ہے سورج چھپا ہوا
شب لگ رہی ہے کھوئی سی دن کے جمال میں
کوئی کرے نہ غور تو اس کا قصور ہے
اک اک جواب ورنہ ہے اک اک سوال کا

بپھری لہریں رات اندھیری اور بلا کی آندھی ہے

بپھری لہریں، رات اندھیری اور بلا کی آندھی ہے 
گردابوں نے بھی گھیرا ہے، ناؤ بھی ٹوٹی پھوٹی ہے
کس نے رکھ ڈالے انگارے دل سی شاخ کی آنکھوں پر
وہ کیوں بھولا یہ خوشیوں کے پھول کھلانے والی ہے
جس کو تیرا ساتھ ملا وہ خوش نہ رہے کیوں پھولوں سا
تیرا تو چھو لینا تک بھی ہجر کے روگ میں شافی ہے

بھڑک اٹھا ہے آلاؤ تمہاری فرقت کا

بھڑک اٹھا ہے آلاؤ تمہاری فرقت کا
نہیں ہے تم پہ اثر پھر بھی محبت کا
معانی ہی تو نہیں کیا بدل گئے اس کے
وفا کو نام جو دیتے ہو تم اذیت کا
تمہی بتاؤ مِرے ہو گے اور کیسے تم
علاجِ عجز بھی نکلا نہیں رعونت کا

شام سے ملنے گیا تو رات نے ٹھہرا لیا

شام سے ملنے گیا تو رات نے ٹھہرا لیا
جانے کیسے چاند نے سورج کو بھی بہکا لیا
ہم نے چپ کیا سادھ لی ہر شخص کی ہر بات پر
پھر ہُوا جتنا بھی جس سے اس نے بس تڑپا لیا
مانا اک الجھے ہُوئے ریشم سا ہم میں ربط تھا
جب سلجھ پایا نہ تھا،۔ تو اور کیوں الجھا لیا 

Monday, 21 December 2015

اگر تو ساتھ چل پڑتا سفر آسان ہو جاتا

اگر تو ساتھ چل پڑتا، سفر آسان ہو جاتا
خوشی سے عمر بھر جینے کا اک سامان ہو جاتا
نہ جا کر کیوں جتاتا ہے، جو جانا تھا چلا جاتا
بہت ہوتا تو یہ ہوتا، کہ میں حیران ہو جاتا
جو میری سمت تُو دو گام بھی ہنس کر چلا آتا
میں تیرے اور تُو میرے لیے ایمان ہو جاتا 

دیے کی لو سے نہ جل جائے تیرگی شب کی

دِیے کی لَو سے نہ جل جائے تیرگی شب کی
کہ دن کی قدر کا باعث ہے ہر گھڑی شب کی
جو دلخراش ہیں کچھ لمحے دن کے لمحوں میں
تو دلفروز بھی ہیں ساعتیں کئی شب کی
کہاں کے خواب میرے اور کہاں کی تعبیریں
مجھے تو سونے نہ دے اب سحر گری شب کی

Wednesday, 4 July 2012

خوشی کے وقت بھی تجھ کو ملال کیسا ہے

خوشی کے وقت بھی تجھ کو ملال کیسا ہے؟
عروجِ حُسن میں نقشِ کمال کیسا ہے؟
جو ایک دُوجے کو چاہیں تو کیوں نہ اپنا لیں
یہ دِل سے پُوچھ کے بتلا خیال کیسا ہے؟
نہیں جو آنے کے سب ان کی راہ تکتے ہیں
یہ انتظار کا سحرش وبال کیسا ہے؟