میرے من کی آس اور احساس ہو تم
زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم
نہ دیکھوں تجھے تو رہتا ہے دل مضطر
سوچوں تو مِرے سر کی دستار ہو تم
میں طالب تِرا تُو تسبیح مِری یادوں کی
اور دعاؤں میں مانگی گئی فریاد ہو تم
آنکھیں کھلیں تو جاگتی ہیں دل کی حسرتیں
دنیا کی حقیقت میں اک خواب ہو تم
ترسے ہے دنیا جس کو دیکھنے کی چاہ میں
وہ افق پر چمکتا ہوا ماہتاب ہو تم
بے مثال، دل نشیں، دل ربا، ہم نشیں
میری وفاؤں کا ہوبہو جواب ہو تم
محبتوں کے گلستاں میں آ گیا رے دل
میرے لہو میں کھلتا ہوا گلاب ہو تم
نیناں غزل
No comments:
Post a Comment