Friday, 17 July 2026

زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم

 میرے من کی آس اور احساس ہو تم

زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم

نہ دیکھوں تجھے تو رہتا ہے دل مضطر

سوچوں تو مِرے سر کی دستار ہو تم

میں طالب تِرا تُو تسبیح مِری یادوں کی

اور دعاؤں میں مانگی گئی فریاد ہو تم

آنکھیں کھلیں تو جاگتی ہیں دل کی حسرتیں

دنیا کی حقیقت میں اک خواب ہو تم

ترسے ہے دنیا جس کو دیکھنے کی چاہ میں

وہ افق پر چمکتا ہوا ماہتاب ہو تم

بے مثال، دل نشیں، دل ربا، ہم نشیں

میری وفاؤں کا ہوبہو جواب ہو تم

محبتوں کے گلستاں میں آ گیا رے دل

میرے لہو میں کھلتا ہوا گلاب ہو تم


نیناں غزل

No comments:

Post a Comment