گنوا نہ خُون پسینے کی کمائی میری
کیوں کھلیان میں گندم ہے جلائی میری
ایک مُدت سے تعاقب میں میرے قاتل ہے
تمہیں آواز دے رہی ہے سُنائی میری؟
تنکے تنکے سے میں نے آشیاں بنایا تھا
تُجھ کو محنت نہیں دیتی ہے دکھائی میری؟
میری اچھائی میری ماں کی نظر سے جانچو
دے سکتی ہے فقط ماں ہی صفائی میری
میرے بچے میں تجھے ٹوکتا ہوں، تیرے لیے
یاد آئے گی تم کو یہ دُہائی میری
کتنے امکان تھے میں بچ کے نکل سکتا تھا
کسی نے پیش ہی نہ کی تھی صفائی میری
میرے مُنصف کے تعصّب کا نتیجہ یہ ہے
مُلتوی ہو گئی ہے پھر سے رِہائی میری
افضل ضیائی
No comments:
Post a Comment