بے وفا ہو نہ با وفا ہو تم
ہم سمجھتے ہیں بسکہ کیا ہو تم
تم نہ دریا ہو اور نہ پانی ہو
صرف پانی کا بلبلہ ہو تم
جیسے مٹی سے بن کے آئے ہو
اسی مٹی کی پھر غذا ہو تم
بے وفا ہو نہ با وفا ہو تم
ہم سمجھتے ہیں بسکہ کیا ہو تم
تم نہ دریا ہو اور نہ پانی ہو
صرف پانی کا بلبلہ ہو تم
جیسے مٹی سے بن کے آئے ہو
اسی مٹی کی پھر غذا ہو تم
جسم میں تھوڑی جان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
خاندانی نشان باقی ہے
سامنے پاندان باقی ہے
سب مکیں ہو گئے ہیں خلد نشیں
اب تو خالی مکان باقی ہے
ہر طرح سے ستا ستا کے مجھے
تھک گئے لوگ آزما کے مجھے
فرض کا راستہ دکھا کے مجھے
آپ کیوں سو گئے جگا کے مجھے
پاس تھے تو نہ قدر تھی میری
یاد کرتے ہیں دور جا کے مجھے
دل کی چاہت کو آفتاب کرو
اپنی سیرت کو ماہتاب کرو
دل کو آمادۂ ثواب کرو
نیکیاں اور بے حساب کرو
نفس کے انتشار میں پھنس کر
اپنی دنیا نہ تم خراب کرو
عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالے سے فضاؤں سے خلا سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے
جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے
پُر ہول سمندر سے،۔ پُراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے، کڑکنے کی صدا سے