Friday, 9 September 2022

جسم میں تھوڑی جان باقی ہے

 جسم میں تھوڑی جان باقی ہے 

آخری امتحان باقی ہے 

خاندانی نشان باقی ہے

سامنے پاندان باقی ہے

سب مکیں ہو گئے ہیں خلد نشیں

اب تو خالی مکان باقی ہے

کیسی کیسی عظیم تھیں قومیں 

جن کی اب داستان باقی ہے 

اس نے پھینکے زبان کے خنجر

آج تک بھی نشان باقی ہے

زلزلہ ایک آ گیا تھا وہاں

سر پہ اب آسمان باقی ہے

ٹکڑے ٹکڑے ہوئے گریباں کے

پھر بھی کیوں کھینچ تان باقی ہے


عتیق احمد جاذب

No comments:

Post a Comment