جسم میں تھوڑی جان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
خاندانی نشان باقی ہے
سامنے پاندان باقی ہے
سب مکیں ہو گئے ہیں خلد نشیں
اب تو خالی مکان باقی ہے
کیسی کیسی عظیم تھیں قومیں
جن کی اب داستان باقی ہے
اس نے پھینکے زبان کے خنجر
آج تک بھی نشان باقی ہے
زلزلہ ایک آ گیا تھا وہاں
سر پہ اب آسمان باقی ہے
ٹکڑے ٹکڑے ہوئے گریباں کے
پھر بھی کیوں کھینچ تان باقی ہے
عتیق احمد جاذب
No comments:
Post a Comment