نظریں جھکا رہا ہے وہ ملا نہیں رہا
ہم سے عشق ٹھیک سے لڑا نہیں رہا
شکل دے کے مجھ کو کوزہ گر میرا
میں کہہ رہا ہوں دل بنا، بنا نہیں رہا
ماضی کے احسانات جتلا رہا ہے وہ
نوک سِناں چبھو رہا،۔۔ سُنا نہیں رہا
جلا رہا ہے مجھ کو برزخ میں ہجر کے
میں ہوں کہ خط اس کے جلا نہیں رہا
وہ، میں، یہ، میں سارا وقت کاٹ کر
ولی وہ اصل ہے جو بات بتا نہیں رہا
زاویار ولی
No comments:
Post a Comment