عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دِلوں کو نُور مِلا اِک تِرے اشارے پر
الف کھلا ہے تِرے مِیم کے سہارے پر
اسے شعور کی دولت ملی تِرے در سے
یہ زندگی کہ جو نازاں تھی ہر خسارے پر
بنامِ ہجرِ مدینہ ہمارے اشک سبھی
ہمارے خواب ہیں موقوف اک نظارے پر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دِلوں کو نُور مِلا اِک تِرے اشارے پر
الف کھلا ہے تِرے مِیم کے سہارے پر
اسے شعور کی دولت ملی تِرے در سے
یہ زندگی کہ جو نازاں تھی ہر خسارے پر
بنامِ ہجرِ مدینہ ہمارے اشک سبھی
ہمارے خواب ہیں موقوف اک نظارے پر
چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا
غم مجھ کو کسی طور سنورنے نہیں دیتا
ہر لحظہ تِری یاد کا بِپھرا ہوا طوفاں
دریائے محبت کو اُترنے نہیں دیتا
اے شہرِ سلاسل! تِرا انصاف کا وعدہ
پژمُردہ اُمیدوں کو بھی مرنے نہیں دیتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک مُٹھی ستو ہوں، روٹی خشک ادھوری ہو
مولا! مجھ سے آپ کی سنت کیسے پوری ہو
نعت توہے محتاط رویوں اورجذبوں کا کام
اتنی بات ہے کہنا جتنی بات ضروری ہو
ہجر کے نم کاغذ پر عشق کے سبز قلم کے ساتھ
ہم نے عرض گزاری دیکھیں کب منظوری ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مولا
ذرا سوچو کہ کون ہے وہ
جو کُن کہے تو جہان سارے
وجود پائیں، نظام پائیں
وہ ایک خلیے میں زندگی کے
ہزار پہلو سمیٹتا ہے
جو ایک جوہر سے قوتوں کے
سرد ہوا، ویرانی، رات
ہے جانی پہچانی رات
انکھوں سے بہتے آنسو
کر بیٹھے بارانی رات
دن ہے آنکھ کا پاگل پن
دل کی ہے نادانی رات
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
فقیر کا ہے عجب رابطہ مدینے سے
وہ کھو گیا تھا یہاں اور ملا مدینے سے
خدائے پاک ہے رازق، رسولؐ قاسم ہیں
ملا ہے رب سے، ہوا ہے عطا مدینے سے
غلام محو سفر ہے، درود سایہ فگن
سفر بہشت کا ہے، راستہ مدینے سے