Showing posts with label کاشف عرفان. Show all posts
Showing posts with label کاشف عرفان. Show all posts

Friday, 12 December 2025

دلوں کو نور ملا اک ترے اشارے پر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دِلوں کو نُور مِلا اِک تِرے اشارے پر

الف کھلا ہے تِرے مِیم کے سہارے پر

اسے شعور کی دولت ملی تِرے در سے

یہ زندگی کہ جو نازاں تھی ہر خسارے پر

بنامِ ہجرِ مدینہ ہمارے اشک سبھی

ہمارے خواب ہیں موقوف اک نظارے پر

Sunday, 16 February 2025

چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا

 چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا

غم مجھ کو کسی طور سنورنے نہیں دیتا

ہر لحظہ تِری یاد کا بِپھرا ہوا طوفاں

دریائے محبت کو اُترنے نہیں دیتا

اے شہرِ سلاسل! تِرا انصاف کا وعدہ

پژمُردہ اُمیدوں کو بھی مرنے نہیں دیتا

Wednesday, 25 September 2024

اک مٹھی ستو ہوں روٹی خشک ادھوری ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک مُٹھی ستو ہوں، روٹی خشک ادھوری ہو

مولا! مجھ سے آپ کی سنت کیسے پوری ہو

نعت توہے محتاط رویوں اورجذبوں کا کام

اتنی بات ہے کہنا جتنی بات ضروری ہو

ہجر کے نم کاغذ پر عشق کے سبز قلم کے ساتھ

ہم نے عرض گزاری دیکھیں کب منظوری ہو

Tuesday, 24 September 2024

مولا ذرا سوچو کہ کون ہے وہ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

مولا


ذرا سوچو کہ کون ہے وہ

جو کُن کہے تو جہان سارے

وجود پائیں، نظام پائیں

وہ ایک خلیے میں زندگی کے

ہزار پہلو سمیٹتا ہے

جو ایک جوہر سے قوتوں کے

Monday, 23 September 2024

سرد ہوا ویرانی رات

 سرد ہوا، ویرانی، رات

ہے جانی پہچانی رات

انکھوں سے بہتے آنسو

کر بیٹھے بارانی رات

دن ہے آنکھ کا پاگل پن

دل کی ہے نادانی رات

Thursday, 18 November 2021

فقیر کا ہے عجب رابطہ مدینے سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


فقیر کا ہے عجب رابطہ مدینے سے

وہ کھو گیا تھا یہاں اور ملا مدینے سے

خدائے پاک ہے رازق، رسولؐ قاسم ہیں

ملا ہے رب سے، ہوا ہے عطا مدینے سے

غلام محو سفر ہے، درود سایہ فگن

سفر بہشت کا ہے، راستہ مدینے سے