چاند سے، نور سے، شبنم سے، صبا سے، گل سے
اپنی امید کے چہروں سے محبت کی ہے
بزمِ جاناں کا تصور بھی سرِ دار رہا
ہم دِوانوں نے اشاروں سے محبت کی ہے
غنچۂ زخمِ،جگر، شبنمِ چشمِ نرگِس
عمر بھر ہم نے بہاروں سے محبت کی ہے
چاند سے، نور سے، شبنم سے، صبا سے، گل سے
اپنی امید کے چہروں سے محبت کی ہے
بزمِ جاناں کا تصور بھی سرِ دار رہا
ہم دِوانوں نے اشاروں سے محبت کی ہے
غنچۂ زخمِ،جگر، شبنمِ چشمِ نرگِس
عمر بھر ہم نے بہاروں سے محبت کی ہے
اور
دھرتی کے محروم انسان
میر ے اپنے قصبے کے غریب
موچی، نائی، جُلاہا، دھوبی اور ترکھان، لوہار
یہ بچارے کسان
جن کی پوری نسلیں
زندگی اور گھرانے
مارو اس گندے لڑکے کو
خان کے باغ کے پھل کا چور
نہیں نہیں
چچا
ماموں
یہ تو میں نے توڑا ہے
“ اس طرف سے نعرہ تھا ”انگریز نکل جاؤ“
اس طرف سے لاٹھی، گولی، جیل
اس طرف سے آزادی کے دل جلے پروانے
خالی ہاتھ
اس طرف سے گوروں، کالوں، زردوں کی افواج
سنگینیں، بندوقیں، آرمرڈ کار