Showing posts with label اجمل خٹک. Show all posts
Showing posts with label اجمل خٹک. Show all posts

Monday, 29 April 2024

چاند سے نور سے شبنم سے صبا سے گل سے

 چاند سے، نور سے، شبنم سے، صبا سے، گل سے

اپنی امید کے چہروں سے محبت کی ہے

بزمِ جاناں کا تصور بھی سرِ دار رہا

ہم دِوانوں نے اشاروں سے محبت کی ہے

غنچۂ زخمِ،جگر، شبنمِ چشمِ نرگِس

عمر بھر ہم نے بہاروں سے محبت کی ہے

Wednesday, 27 March 2024

اور دھرتی کے محروم انسان

 اور

دھرتی کے محروم انسان

میر ے اپنے قصبے کے غریب

موچی، نائی، جُلاہا، دھوبی اور ترکھان، لوہار

یہ بچارے کسان

جن کی پوری نسلیں

زندگی اور گھرانے

Tuesday, 9 January 2024

مارو اس گندے لڑکے کو

مارو اس گندے لڑکے کو

خان کے باغ کے پھل کا چور

نہیں نہیں

چچا

ماموں

یہ تو میں نے توڑا ہے

Monday, 8 January 2024

آزادی کے دل جلے پروانے

“ اس طرف سے نعرہ تھا ”انگریز نکل جاؤ“

اس طرف سے لاٹھی، گولی، جیل

اس طرف سے آزادی کے دل جلے پروانے

خالی ہاتھ

اس طرف سے گوروں، کالوں، زردوں کی افواج

سنگینیں، بندوقیں، آرمرڈ کار

Tuesday, 13 January 2015

میرا فن مرے دور کا فن مرے انسان کا فن

میرا فن 

میرے نقاد
میں جذباتی ہوں
میرے اشعار میں للکار ہے
میری نظموں میں
قصیدوں کا کہیں رنگ نہیں
میری غزلیں