مارو اس گندے لڑکے کو
خان کے باغ کے پھل کا چور
نہیں نہیں
چچا
ماموں
یہ تو میں نے توڑا ہے
اس گھنے درخت سے
جس کو میرے باپ دادا نے برسوں خُوں سے سینچا ہے
نہیں نہیں
ماموں
چچا
ہاں یہ تو میں لایا تھا
اس خُوبصورت باغ سے
جس کو ان چھوٹے ہاتھوں سے میں نے پانی دیا ہے
چُپ رہو بکواسی لڑکے
تُو بھی۔ تیرا باپ بھی چور
باغ کا مالک، پھل کا مالک، تیرا مالک خان
تیرا باپ دہقان
اجمل خٹک
No comments:
Post a Comment