Tuesday, 9 January 2024

دعا تو رہتی ہے دست دعا نہیں رہتا

 دُعا تو رہتی ہے، دستِ دُعا نہیں رہتا

سو طے ہوا مِرے گھر میں خُدا نہیں رہتا

میں ایسے دشت کو آباد کرنے والا ہوں

جہاں پہ کوئی بھی جُگنو، دِیا نہیں رہتا

تُو ایسے در پہ کھڑا ہے قسم اسی در کی

کوئی بھی شخص یہاں پر کھڑا نہیں رہتا

بِچھڑنے والا مِرا ہاتھ تھام کر بولا

کوئی مکِیں کسی گھر میں سدا نہیں رہتا

عجیب خوف ہے جس کا وجود ہے ہی نہیں

کسی بھی گھر کا دریچہ کُھلا نہیں رہتا

ہزار دل کو لُبھاتے حسِین منظر ہیں

کوئی بھی زخم یہاں پر ہرا نہیں رہتا

سرائے دل کا ہے دستور اس جگہ صابر

کسی کے ہوتے ہوئے دوسرا نہیں رہتا


صابر چودھری

No comments:

Post a Comment