Showing posts with label محمود شام. Show all posts
Showing posts with label محمود شام. Show all posts

Wednesday, 14 May 2025

اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو

 اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو (ترانۂ فضائیہ)


اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو

پرفشاں مجاہدو

تم وطن کی لاج ہو

پاک سرزمین کی

اپنی جاں پہ کھیل کے

تم بنے سلامتی

Thursday, 14 April 2022

مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت

 مِرے لیے تِری نظروں کی روشنی ہے بہت

کہ دیکھ لوں تجھے پل بھر مجھے یہی ہے بہت

یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیں

تجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت

کچھ اس خطا کی سزا بھی تو کم نہیں ملتی

غریب شہر کو اک جرم آگہی ہے بہت

Thursday, 22 October 2020

کس کو ہو گا ترے آنے کا پتا میرے بعد

 کس کو ہو گا تِرے آنے کا پتہ میرے بعد

کون سن پائے گا لمحوں کی صدا میرے بعد

جس سے یادوں کے شبستان مہک اٹھتے تھے

اسی خوشبو کو ترستی ہے صبا میرے بعد

میں تو اک رقص تھا کچھ رنگ بھرے ذروں کا

راز یہ اہل زمانہ پہ کھلا میرے بعد

Friday, 16 October 2020

اڑتی ہے دل کے فرش پر بیتے دنوں کی راکھ

 اڑتی ہے دل کے فرش پر بیتے دنوں کی راکھ

میں ہوں تِرا خیال ہے اور سگرٹوں کی راکھ

بدلا جو سال ہم کو بھی سب نے بھلا دیا

ہم تھے کہ گزرے سال کے کیلنڈروں کی راکھ

گلیاں بھی سوچ میں ہیں دریچے بھی محو ہیں

وہ کون تھا بکھیر گیا جو دلوں کی راکھ

Sunday, 10 January 2016

اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار گیا

اونے پونے غزلیں بیچیں، نظموں کا بیوپار گیا
دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا
اس بستی کے لوگ تو تھے سب چلتی پھرتی دیواریں
ہم نے رنگ لٹاتی شب سے، اجلے دنوں سے پیار کیا
ذہن سے اک اک کر کے تیری ساری باتیں اتر گئیں
کبھی کبھی تو وقت نے ہم کو ایسا بھی ناچار کیا

سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے

سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے
وقت کی صدا ہے یہ وقت کی کہانی ہے
بھولنا بھی چاہو گی تو بھلا نہ پاؤ گی
پیڑ پیڑ پر لکھی اب میری کہانی ہے
اہل دل ہی کہتے ہیں اہل دل ہی سنتے ہیں
چاند ایک نغمہ ہے چاندنی کہانی ہے

اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا

اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا
اک سمندر تیرے میرے درمیاں پھیلا ہوا
ایک جنگل جس میں انساں کو درندوں سے ہے خوف
ایک جنگل جس میں انساں خود سے ہی سہما ہوا
ایک دریا جو بجھا دیتا ہے میدانوں کی پیاس
ایک دریا خواہشوں کی پیاس کا چڑھتا ہوا

کتنے کم ظرف تھے رحمت بھی نہ سنبھلی ہم سے

کتنے کم ظرف تھے رحمت بھی نہ سنبھلی ہم سے
پوچھتی رہتی ہے ڈوبی ہوئی دھرتی ہم سے
بِن بتائے ہی چلا آیا ہے گھر پر ملنے
جان پہچان ہے دریا کی پرانی ہم سے
جب میسر تھی سرِ عام چھلکنے دی تھی
پھر گریزاں ہی رہے جام و صراحی ہم سے

Friday, 31 July 2015

جب تلک جوش جنوں عشق پہ حاوی نہ ہوا

جب تلک جوشِ جنوں عشق پہ حاوی نہ ہوا
کوئی بھی کام محبت میں مثالی نہ ہوا
مشورہ "ترکِ" تعلق کا "دیا" تھا اس نے
میں تو راضی تھا، مگر دل مِرا راضی نہ ہوا
فیصلے میں‌ بھی کِیا کرتا اسی کے حق میں
وہ تو اچھا ہوا، اس دور کا قاضی نہ ہوا

Wednesday, 11 December 2013

دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد

دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد
جیسے کہ آسمان کا منظر گھٹا کے بعد
کیا کیا نقوش ہم نے ابھارے تھے ریت پر
باقی رہا نہ کوئی بھی وحشی ہوا کے بعد
بکھری ہوئی تھین چارسو پھولوں کی پتیاں
گلشن سنور سنور گیا تھا باد صبا کے بعد

چاند تارے جب آنگن سے گزرتے ہوں گے

چاند تارے جب آنگن سے گزرتے ہوں گے
شامؔ وہ لوگ ہمیں یاد تو کرتے ہوں گے
ایک یہ صبح کہ ویراں ہے گزرگاہِ خیال
ایک وہ صبح جہاں بال سنورتے ہوں گے
جب کبھی چوڑیاں ٹکرا کے کھنکتی ہوں گی
گھر کی تنہائی میں کیا رنگ بکھرتے ہوں گے

پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی

پھر موسم خیال کی ٹھنڈی ہوا چلی
پھر پھیلنے لگی تِری خوشبو گلی گلی
دل کیف انتظار میں یوں ڈھل کے رہ گیا
پانی میں جیسے گھل گئی ہو برف کی ڈلی
کتنے مکان جھانکتی پھرتی ہے چاندنی
کیا جانے کس کو ڈھونڈتی پھرتی ہے منچلی

لکھ اپنی ڈائری میں کبھی میرا نام بھی

لکھ اپنی ڈائری میں کبھی میرا نام بھی
ان رنگ رنگ لفظوں میں اک سادہ نام بھی
دن تھے کہ تیری کار کا نمبر بھی یاد تھا
اب ہیں کہ ہم کو بھول گا اپنا نام بھی
گرمی تھی وہ مکان کا سب کچھ جھلس گئی
دل کا ورق بھی راکھ ہوا ،اس کا نام بھی

Saturday, 25 August 2012

پھول بن کر تری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا

پھول بن کر تِری ہر شاخ پہ کھلتا میں تھا
خُوشبوئیں تُجھ میں اُترتی تھیں، مہکتا میں تھا
میری سانسوں میں گھُلی تھیں تِری صُبحیں شامیں
تیری یادوں میں گُزرتا ہوا عرصہ میں تھا
شور تھا جیسے سمندر میں ہو گِرتا دریا
اور جب غور سے دیکھا تو اکیلا میں تھا

تو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھے

تُو مُعمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مُجھے
تُو سمندر ہے تو پھر تہ میں اترنا ہے مجھے
تُو نے سوچا تھا کہ جلووں سے بہل جاؤں گا
ایسے کتنے ہی سرابوں سے گزرنا ہے مُجھے
قہر جتنا ہے تیری آنکھ میں برسا دے، مگر
اسی گرداب میں پھنس کر تو ابھرنا ہے مجھے

Thursday, 28 June 2012

ہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیں

ہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیں
 ہم تو ہر مانگ ستاروں سے بھری مانگتے ہیں
 پھول تو خوب ہی لگتے ہیں جہاں چاہیں کِھلیں
 ہم تو سرحد بھی گلابوں سے لدی مانگتے ہیں
 ہم بھی کیا لوگ ہیں نفرت کے شجر بَو بَو کر
 آسمانوں سے محبت کی جَھڑی مانگتے ہیں