اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو (ترانۂ فضائیہ)
اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو
پرفشاں مجاہدو
تم وطن کی لاج ہو
پاک سرزمین کی
اپنی جاں پہ کھیل کے
تم بنے سلامتی
اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو (ترانۂ فضائیہ)
اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو
پرفشاں مجاہدو
تم وطن کی لاج ہو
پاک سرزمین کی
اپنی جاں پہ کھیل کے
تم بنے سلامتی
مِرے لیے تِری نظروں کی روشنی ہے بہت
کہ دیکھ لوں تجھے پل بھر مجھے یہی ہے بہت
یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیں
تجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت
کچھ اس خطا کی سزا بھی تو کم نہیں ملتی
غریب شہر کو اک جرم آگہی ہے بہت
کس کو ہو گا تِرے آنے کا پتہ میرے بعد
کون سن پائے گا لمحوں کی صدا میرے بعد
جس سے یادوں کے شبستان مہک اٹھتے تھے
اسی خوشبو کو ترستی ہے صبا میرے بعد
میں تو اک رقص تھا کچھ رنگ بھرے ذروں کا
راز یہ اہل زمانہ پہ کھلا میرے بعد
اڑتی ہے دل کے فرش پر بیتے دنوں کی راکھ
میں ہوں تِرا خیال ہے اور سگرٹوں کی راکھ
بدلا جو سال ہم کو بھی سب نے بھلا دیا
ہم تھے کہ گزرے سال کے کیلنڈروں کی راکھ
گلیاں بھی سوچ میں ہیں دریچے بھی محو ہیں
وہ کون تھا بکھیر گیا جو دلوں کی راکھ