Sunday, 10 January 2016

اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا

اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا
اک سمندر تیرے میرے درمیاں پھیلا ہوا
ایک جنگل جس میں انساں کو درندوں سے ہے خوف
ایک جنگل جس میں انساں خود سے ہی سہما ہوا
ایک دریا جو بجھا دیتا ہے میدانوں کی پیاس
ایک دریا خواہشوں کی پیاس کا چڑھتا ہوا
ایک صحرا جس میں سناٹا، بگولے اور سراب
ایک صحرا حسرتوں کی ریت بکھراتا ہوا
ایک موسم جو بدلتا ہے نظر کے پیرہن
ایک موسم مدتوں سے فکر پہ ٹھہرا ہوا
ایک گلشن ہے رُتوں کے آنے جانے کا اسیر
ایک گلشن سب رُتوں میں ذہن مہکاتا ہوا

محمود شام

No comments:

Post a Comment