Sunday, 10 January 2016

کتنے کم ظرف تھے رحمت بھی نہ سنبھلی ہم سے

کتنے کم ظرف تھے رحمت بھی نہ سنبھلی ہم سے
پوچھتی رہتی ہے ڈوبی ہوئی دھرتی ہم سے
بِن بتائے ہی چلا آیا ہے گھر پر ملنے
جان پہچان ہے دریا کی پرانی ہم سے
جب میسر تھی سرِ عام چھلکنے دی تھی
پھر گریزاں ہی رہے جام و صراحی ہم سے
دیکھ کر ایسی ہی ناشکرئ نعمت اکثر
روٹھی رہتی ہے خدائی بھی خدا بھی ہم سے
آتی نسلیں بھی کسی روز یہی پوچھیں گی
کیوں نہ محفوظ ہوا قیمتی پانی ہم سے
آج محدود ہیں کیمپوں میں جزیروں کی طرح
پہلے سیکھی تھی دریاؤں نے روانی ہم سے
اب تو ندی بھی ہماری نہیں سنتی ہے کبھی
سن کے سوتا تھا سمندر بھی کہانی ہم سے

محمود شام

No comments:

Post a Comment