Showing posts with label عاصم ثقلین. Show all posts
Showing posts with label عاصم ثقلین. Show all posts

Friday, 7 April 2023

درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے

 درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے 

میرے ہر دکھ کو فقط میرا خدا جانتا ہے

ضد پہ جس چیز کی اڑ جاؤں وہ مل جاتی ہے 

اک وہی ہے جو سبھی لاڈ مِرے مانتا ہے

کم نظر شہر میں رہ کر بھی مجھے رنج نہیں

یہ خوشی ہے کہ مِرا رب مجھے پہچانتا ہے

Sunday, 26 June 2022

ہر آس یہاں ویراں ویراں

 ہر آس یہاں ویراں ویراں

ہر خواہش ہے لرزاں لرزاں

گھر ہو یا شہر ہو ہر جانب

اک نومیدی رقصاں رقصاں

کچھ چہرے دھندلے دھندلے ہیں

کہیں آنکھیں حسن شناس نہیں

Friday, 17 June 2022

ضبط کی آہنی دیوار کو ڈھایا جائے

 ضبط کی آہنی دیوار کو ڈھایا جائے

دوستو! اب کوئی طوفان اُٹھایا جائے

ختم ہو جبر کی فرسودہ روی کا قصہ

اب ہواؤں کو چراغوں سے جلایا جائے

گرچہ اک ریت کا گرداب ہے چاروں جانب

سبز باغ اب نہ وفاؤں کا دکھایا جائے

Thursday, 16 June 2022

تو جو کب سے دل میں ہے جا گزیں

 تو جو کب سے دل میں ہے جا گزیں میری دھڑکنوں کا حساب کر

تو جو کب سے بیٹھا ہے آنکھ میں کوئی روشنی میرا خواب کر

میں جو سر بہ سر کسی گم شدہ سی صدا کا عذاب ہوں

میری تار زخم تلاش لے، مجھے شام غم کا رباب کر

بڑی بے امان ہے زندگی، اسے بن کے کوئی پناہ مل

کوئی چاند رکھ میری شام پر، میری شب کو مہکا گلاب کر

Monday, 28 February 2022

زخم جو رسنے لگا دل کے قریں پہلے سے تھا

 زخم جو رِسنے لگا، دل کے قریں پہلے سے تھا

آنسوؤں کا آنکھ سے رستہ کہیں پہلے سے تھا

لازمی تھا، آسماں چُھونے کی خواہش ساتھ ہو

نارسائی کا مجھے ورنہ یقیں پہلے سے تھا

عین ممکن ہے نیا پن آج کچھ نظروں میں ہو

دل مگر کہتا ہے وہ اتنا حسیں پہلے سے تھا

Wednesday, 23 February 2022

تشنگی ہے اور سبو ہے ایک تو ہے ایک میں

 تشنگی ہے اور سبو ہے، ایک تُو ہے ایک میں

اور کیا اس چار سُو ہے، ایک تُو ہے ایک میں

تیسرا کوئی نہیں تھا،۔ فیصلہ آسان ہے

کس کے دامن پر لہو ہے، ایک تُو ہے ایک میں

کرب کی صدیاں ہیں، لمحہ قُرب کا کوئی نہیں

اک شکستہ آرزو ہے، ایک تُو ہے ایک میں