درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے
میرے ہر دکھ کو فقط میرا خدا جانتا ہے
ضد پہ جس چیز کی اڑ جاؤں وہ مل جاتی ہے
اک وہی ہے جو سبھی لاڈ مِرے مانتا ہے
کم نظر شہر میں رہ کر بھی مجھے رنج نہیں
یہ خوشی ہے کہ مِرا رب مجھے پہچانتا ہے
درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے
میرے ہر دکھ کو فقط میرا خدا جانتا ہے
ضد پہ جس چیز کی اڑ جاؤں وہ مل جاتی ہے
اک وہی ہے جو سبھی لاڈ مِرے مانتا ہے
کم نظر شہر میں رہ کر بھی مجھے رنج نہیں
یہ خوشی ہے کہ مِرا رب مجھے پہچانتا ہے
ہر آس یہاں ویراں ویراں
ہر خواہش ہے لرزاں لرزاں
گھر ہو یا شہر ہو ہر جانب
اک نومیدی رقصاں رقصاں
کچھ چہرے دھندلے دھندلے ہیں
کہیں آنکھیں حسن شناس نہیں
ضبط کی آہنی دیوار کو ڈھایا جائے
دوستو! اب کوئی طوفان اُٹھایا جائے
ختم ہو جبر کی فرسودہ روی کا قصہ
اب ہواؤں کو چراغوں سے جلایا جائے
گرچہ اک ریت کا گرداب ہے چاروں جانب
سبز باغ اب نہ وفاؤں کا دکھایا جائے
تو جو کب سے دل میں ہے جا گزیں میری دھڑکنوں کا حساب کر
تو جو کب سے بیٹھا ہے آنکھ میں کوئی روشنی میرا خواب کر
میں جو سر بہ سر کسی گم شدہ سی صدا کا عذاب ہوں
میری تار زخم تلاش لے، مجھے شام غم کا رباب کر
بڑی بے امان ہے زندگی، اسے بن کے کوئی پناہ مل
کوئی چاند رکھ میری شام پر، میری شب کو مہکا گلاب کر
زخم جو رِسنے لگا، دل کے قریں پہلے سے تھا
آنسوؤں کا آنکھ سے رستہ کہیں پہلے سے تھا
لازمی تھا، آسماں چُھونے کی خواہش ساتھ ہو
نارسائی کا مجھے ورنہ یقیں پہلے سے تھا
عین ممکن ہے نیا پن آج کچھ نظروں میں ہو
دل مگر کہتا ہے وہ اتنا حسیں پہلے سے تھا
تشنگی ہے اور سبو ہے، ایک تُو ہے ایک میں
اور کیا اس چار سُو ہے، ایک تُو ہے ایک میں
تیسرا کوئی نہیں تھا،۔ فیصلہ آسان ہے
کس کے دامن پر لہو ہے، ایک تُو ہے ایک میں
کرب کی صدیاں ہیں، لمحہ قُرب کا کوئی نہیں
اک شکستہ آرزو ہے، ایک تُو ہے ایک میں