درد کی دھوپ میں خوشیوں کی گھٹا تانتا ہے
میرے ہر دکھ کو فقط میرا خدا جانتا ہے
ضد پہ جس چیز کی اڑ جاؤں وہ مل جاتی ہے
اک وہی ہے جو سبھی لاڈ مِرے مانتا ہے
کم نظر شہر میں رہ کر بھی مجھے رنج نہیں
یہ خوشی ہے کہ مِرا رب مجھے پہچانتا ہے
اسی خاطر تو بلائیں سھی ٹل جاتی ہیں
مجھ کو بگڑے ہوئے اپنوں میں وہ گردانتا ہے
عاصم ثقلین
No comments:
Post a Comment