عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
علمدارِ کربلا (مسدس)
روح کمال احمدﷺ مختار ہے وفا
حسن و جمال حیدرؑ کرار ہے وفا
محبوب خاص ایزد غفار ہے وفا
انسانیت کی نسل کا معیار ہے وفا
کہتا ہوں صاف میثم تمار کی طرح
ہو باوفا تو شہ کے علمدار کی طرح
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
علمدارِ کربلا (مسدس)
روح کمال احمدﷺ مختار ہے وفا
حسن و جمال حیدرؑ کرار ہے وفا
محبوب خاص ایزد غفار ہے وفا
انسانیت کی نسل کا معیار ہے وفا
کہتا ہوں صاف میثم تمار کی طرح
ہو باوفا تو شہ کے علمدار کی طرح
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
ظالم کی یہ روش کہ جفا پر جفا رہے
مظلوم کی ہے فکر وفا پر وفا رہے
لازم ہے حق کے سامنے یوں سر جھکا رہے
آ جائے گر قضا بھی تو سجدہ ادا رہے
گر چاہتے ہو نسل کا سونا کھرا رہے
لازم ہے آل پاکؑ سے بھی رابط رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
کیا تعجب ہے جو سب کا مدعا عباسؑ ہیں
جو دلِ حیدرؑ سے نکلی وہ دعا عباسؑ ہیں
مختصر الفاظ میں وہ با وفا عباسؑ ہیں
ہے وفا اک لفظ جس کا ترجمہ عباسؑ ہیں
بزم میں اُم البنین کا مدعا عباسؑ ہیں
رزم میں شیرِ خداؑ کا حوصلہ عباسؑ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
یوں تو ہے فکرِ بشر کی انتہا میرا حسینؑ
اک نئی تاریخ کی ہے ابتداء میرا حسینؑ
دِینِ حق خطرہ میں تھا کام آ گیا میرا حسینؑ
مشکلیں سب کی تھیں اور مشکلکشا میرا حسینؑ
ساری دنیا کے لیے اک آسرا دین رسولﷺ
اور نبیﷺ کے دِین کا تھا آسرا میرا حسینؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا گواہ جو حق کے امام ہوتے ہیں
وہ مستحقِ درود و سلام ہوتے ہیں
بہ شوق ناز اُٹھاتا ہے صاحبِ معراج
خدا کے دین کے ایسے امام ہوتے ہیں
جو بن کے آتے ہیں زہرا کی آنکھ کے تارے
وہی زمانے میں ماہِ تمام ہوتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت معراج النبیﷺ
اتنا شرف ہی کافی ہے اس رات کے لیے
یہ رات تھی خدا سے ملاقات کے لیے
سوچو وہ ذات ہو گی بھلا کس قدر بلند
تخلیقِ کائنات ہو جس ذات کے لیے
اللہ نے بچا کے رکھا نورِ فاطمہؑ
معراج میں رسولؐ کی سوغات کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مقام مصطفیٰﷺ
بلند ہوتا نہ کیسے مقام احمدﷺ کا
احد کے نام سے نکلا ہے نام احمدﷺ کا
فلک نے رکھا ہے نعلین پاکؐ کو سر پر
کِیا ہے عرش نے یوں احترام احمدﷺ کا
بشر زمیں پہ مَلک رک گیا ہے سدرہ پر
خدایا! تُو ہی بتا اب مقام احمدﷺ کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کون جانے کس بلندی پر مِرے سرکارﷺ ہیں
سب جہاں مجبور ہیں، یہ احمدﷺ مختار ہیں
کہہ دو یہ ان سے جو حق کے طالب دیدار ہیں
حق سے ملنے کے مدینہ ہی میں کچھ آثار ہیں
آسماں والے بھی کرتے ہیں مدینہ کا طواف
عرشِ اعظم سے بھی اونچے یہ در و دیوار ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انجام نصیری
چاہتے ہیں گر کمال حق کا جلوہ دیکھیۓ
آئیے آلِ محمدﷺ کا سراپا دیکھیۓ
کیا ضرورت ہے کہ دنیا کا تماشہ دیکھیۓ
جس میں ہو معبود کا جلوہ وہ چہرہ دیکھیۓ
پہلے زندہ کس طرح ہوتا ہے مردہ دیکھیۓ
پھر کوئی کس طرح کر دیتا ہے زندہ دیکھیۓ
عارفانہ کلام منقبت سلام بر مولا علی
کیوں ثنائے حیدرؑ صفدر سے گھبراتے ہیں لوگ
نام سنتے ہیں علیؑ کا اور مر جاتے ہیں لوگ
جب نہیں مولود کعبہ سے کوئی نسبت انہیں
جانے پھر کس منہ سوئے بیت حق جاتے ہیں لوگ
کیا خبر تھی مرتضیٰ مولا بنائے جائیں گے
خم تک آ کر مصطفیِٰ کے ساتھ پچھتاتے ہیں لوگ