Showing posts with label بیدل حیدری. Show all posts
Showing posts with label بیدل حیدری. Show all posts

Saturday, 4 May 2024

اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا

 اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا

خود مر گیا، ضمیر کو مرنے نہیں دیا

آتا ہوا دکھائی دیا تھا وہ دور سے

پھر یہ ہوا کہ ساتھ نظر نے نہیں دیا

احساس تو مجھے بھی سفر میں تھکن کا تھا

سایہ مگر کسی بھی شجر نے نہیں دیا

Saturday, 16 July 2022

تسخیر کا وظیفہ کوئی حسب حال سوچ

 تسخیر کا وظیفہ کوئی حسبِ حال سوچ

وہ خود تِرا طواف کرے، وہ کمال سوچ

چہرہ جو اس کا پڑھنا پڑے قسط وار پڑھ

گر سوچنا پڑے تو اسے خال خال سوچ

تحت الثرٰی کو لے کے لگا آسماں پہ جست

جس کو زوال آ نہ سکے، وہ کمال سوچ

Sunday, 17 April 2022

تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت

 تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت

میں نے ظلمت کے طلسمات کو توڑا ہے بہت

یہ بھی کیا کم ہے کہ اس دورِ گراں خوابی میں

میں نے سوئے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے بہت

مجھے ضائع نہ کرو، میرے زمانے والو

اچھے فنکار کا اس دَور میں تھوڑا ہے بہت

Monday, 4 April 2022

پھر بعد میں تلاش کرے اور دہائی دے

 پھر بعد میں تلاش کرے، اور دُہائی دے

قیدِ بدن سے خود کو نہ اتنی رہائی دے

ہم سے نسیمِ صبح کے لہجے میں بات کر

ہم لوگ وہ نہیں جنہیں اونچا سنائی دے

جب تیرنے لگوں تو بھنور منتیں کریں

جب ڈوبنے لگوں تو سمندر دُہائی دے

Sunday, 2 May 2021

بہنے لگے تو پلکوں سے لف کر دیا گیا

 بہنے لگے تو پلکوں سے لف کر دیا گیا

پھر آنسوؤں کو دُرِ نجف کر دیا گیا

کچھ قہقہوں کی گونج فلک تک سُنائی دی

کچھ سسکیوں کو تابعِ دف کر دیا گیا

جن اُنگلیوں کے زخم ابھی تک نہیں بھرے

تاریخ سے انہی کو حذف کر دیا گیا

Wednesday, 21 October 2020

کل بھی تلاش رزق میں گزرا تمام دن

 کل بھی تلاشِ رزق میں گزرا تمام دن

اڑتا پھرا فضا میں پرندہ تمام دن

سوچا تھا اپنے سائے کو دیکھوں تو اوڑھ کر

سورج نے مجھ پہ غصہ اتارا تمام دن

تنہائی کا خیال قریب آتا کس لیے

میں اپنا خود شریکِ سفر تھا تمام دن

یادش بخیر جب میں ترا غم اسیر تھا

 یادش بخیر جب میں تِرا غم اسیر تھا

جو اشک ٹوٹتا تھا لہو کی لکیر تھا

مجھ سے چلے ہیں خون چھڑکنے کے سلسلے

میں دشت میں بہار کا پہلا سفیر تھا

وہ رو پڑا خراب و حزیں دیکھ کر مجھے

میں ہنس پڑا کہ دورِ ستم کا اخیر تھا

Thursday, 6 February 2020

اتنی ٹھنڈی آہ مت بھر ہوش کر پچھتائے گا

اتنی ٹھنڈی آہ مت بھر، ہوش کر، پچھتائے گا
اس طرح تو جسم میں خون اور بھی جم جائے گا
آپ سورج کو کہیں بھی دفن کر کے دیکھ لیں
جس جگہ بھی مل گیا موقع، وہیں اگ آئے گا
ختم ہونے دے کہانی، بھیگنے دے رات کو
خامشی کا زہر خود چوپال کو چڑھ جائے گا

بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں

یہ جو چہروں پہ لیے گردِ الم آتے ہیں
یہ تمہارے ہی پشیمانِ کرم آتے ہیں
اتنا کھل کر بھی نہ رو، جسم کی بستی کو بچا
بارشیں کم ہوں تو سیلاب بھی کم آتے ہیں
تُو سنا!! تیری مسافت کی کہانی کیا ہے
میرے رستے میں تو ہر گام پہ خم آتے ہیں

Friday, 15 February 2019

میرے خلاف ابر کی سازش نہیں رکی

میرے خلاف، ابر کی سازش نہیں رکی
چھت گر پڑی ہے اور ابھی بارش نہیں رکی
چہرے تھے قتل گاہ کے چاروں طرف مگر
مقتول کے لہو کی نمائش نہیں رکی
دیکھا جو چور آنکھ سے اس نے مِری طرف
سینے میں ایک لمحے کو خواہش نہیں رکی

پیہم جب اضطراب سے سینہ دو چار تھا

پیہم جب اضطراب سے سینہ دو چار تھا
میں زندگی کی تازہ صفوں میں شمار تھا
موسم میں جان تھی نہ چمن پر نکھار تھا
جشنِ بہار اب کے خلافِ بہار تھا
یہ باغباں کے فیض سے پہلے کی بات ہے
ہر شاخ کے گلے میں گلابوں کا ہار تھا

میں سائبان سر پہ جو تانوں کرائے کا

میں سائبان سر پہ جو تانوں کرائے کا
اتنا بھی اشتیاق نہیں مجھ کو سائے کا
مفہومِ عافیت کو سمجھنے کے باوجود
حق چاہتی ہے خامشی، اظہارِ رائے کا
آہنگ و صوت سے ہے مبرا مِرا سخن
خود خامشی ہے اب مِری غزلوں کی گائیکا

قلم کی نوک جہاں کامیاب ٹھہرے گی

قلم کی نوک جہاں کامیاب ٹھہرے گی
لہو لکیر، خطِان قلاب ٹھہرے گی
کبھی تو ہجر زدوں کا نصیب جاگے گا
کبھی تو آنکھ گنہگارِ خواب ٹھہرے گی
کسی کے ہاتھ تو لگنا ہے اشکِ خونیں کو
کسی کنارے تو شاخِ گلاب ٹھہرے گی

Thursday, 9 March 2017

میں انقلاب کا پیغام لے کے آیا ہوں

قصۂ پارینہ

مِرے بزرگو، مِرے ساتھیو، مرے بیٹو 
تمہارے واسطے انعام لے کے آیا ہوں 
میں انقلاب کا پیغام لے کے آیا ہوں
یہ رشوتیں ، یہ سمگلنگ یہ چور بازاری 
سیاہ داغ ہیں پیشانئ گلستاں پر 
حیات بوجھ بنی جا رہی ہے انساں پر

کیا ہوئے وہ ستارہ فام سے لوگ

کیا ہوئے وہ ستارہ فام سے لوگ
منحرف ہو گئے ہیں شام سے لوگ
کچھ تو دریائے عشق میں ہے ناں
آن گرتے ہیں جو دھڑام سے لوگ
یہ کہانی کا کون سا دن ہے
بیٹھ جاتے ہیں آ کے شام سے لوگ

چاند کا حال برا لگتا ہے

چاند کا حال بُرا لگتا ہے
جیسے کشکول پڑا لگتا ہے
جس طرف جاؤں جُھکا لگتا ہے
آسماں پہنچا ہوا لگتا ہے
کرسئ عدل گِری پڑتی ہے
کوئی سولی پہ چڑھا لگتا ہے

دیکھ لو گے ابھی دیکھا کیا ہے

دیکھ لو گے ابھی دیکھا کیا ہے
تم نہیں جانتے، دنیا کیا ہے
ڈال جاتا ہے کوئی خاک میں جان
ورنہ، یہ خاک کا پتلا کیا ہے
مانگنے والا تو بن، بعد میں دیکھ
دینے والا تجھے، دیتا کیا ہے

اس نے کل گاؤں سے جب رخت سفر باندھا تھا

اس نے کل گاؤں سے جب رختِ سفر باندھا تھا
بچہ آغوش میں تھا، پُشت پہ گھر باندھا تھا
انگلیوں پر بھی نچایا ہےسمندر ہم نے
ہم نے اک دور میں چپو سے بھنور باندھا تھا
اب جو دم گھٹتا ہے زنداں میں تو روتے کیوں ہو
تمہی لوگوں نے تو دیوار کو در باندھا تھا

Thursday, 15 December 2016

ترا بیمار اچھا ہو رہا ہے

تِرا بیمار اچھا ہو رہا ہے
یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے
اچانک دل جو پسپا ہو رہا ہے
کہیں سے چھپ کے حملہ ہو رہا ہے
تِری تصویر اتاری جا رہی ہے
تِرے پیکر کا چربہ ہو رہا ہے

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہو گا

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہو گا
دل نہیں مانتا ایسا ہو گا
جتنا ہنگامہ زیادہ ہو گا
آدمی اتنا ہی تنہا ہو گا
چلتا پھرتا ہے ستارہ میرا
اب کہیں اور چمکتا ہو گا