اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا
خود مر گیا، ضمیر کو مرنے نہیں دیا
آتا ہوا دکھائی دیا تھا وہ دور سے
پھر یہ ہوا کہ ساتھ نظر نے نہیں دیا
احساس تو مجھے بھی سفر میں تھکن کا تھا
سایہ مگر کسی بھی شجر نے نہیں دیا
اس نے خودی کا نشہ اترنے نہیں دیا
خود مر گیا، ضمیر کو مرنے نہیں دیا
آتا ہوا دکھائی دیا تھا وہ دور سے
پھر یہ ہوا کہ ساتھ نظر نے نہیں دیا
احساس تو مجھے بھی سفر میں تھکن کا تھا
سایہ مگر کسی بھی شجر نے نہیں دیا
تسخیر کا وظیفہ کوئی حسبِ حال سوچ
وہ خود تِرا طواف کرے، وہ کمال سوچ
چہرہ جو اس کا پڑھنا پڑے قسط وار پڑھ
گر سوچنا پڑے تو اسے خال خال سوچ
تحت الثرٰی کو لے کے لگا آسماں پہ جست
جس کو زوال آ نہ سکے، وہ کمال سوچ
تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت
میں نے ظلمت کے طلسمات کو توڑا ہے بہت
یہ بھی کیا کم ہے کہ اس دورِ گراں خوابی میں
میں نے سوئے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے بہت
مجھے ضائع نہ کرو، میرے زمانے والو
اچھے فنکار کا اس دَور میں تھوڑا ہے بہت
پھر بعد میں تلاش کرے، اور دُہائی دے
قیدِ بدن سے خود کو نہ اتنی رہائی دے
ہم سے نسیمِ صبح کے لہجے میں بات کر
ہم لوگ وہ نہیں جنہیں اونچا سنائی دے
جب تیرنے لگوں تو بھنور منتیں کریں
جب ڈوبنے لگوں تو سمندر دُہائی دے
بہنے لگے تو پلکوں سے لف کر دیا گیا
پھر آنسوؤں کو دُرِ نجف کر دیا گیا
کچھ قہقہوں کی گونج فلک تک سُنائی دی
کچھ سسکیوں کو تابعِ دف کر دیا گیا
جن اُنگلیوں کے زخم ابھی تک نہیں بھرے
تاریخ سے انہی کو حذف کر دیا گیا
کل بھی تلاشِ رزق میں گزرا تمام دن
اڑتا پھرا فضا میں پرندہ تمام دن
سوچا تھا اپنے سائے کو دیکھوں تو اوڑھ کر
سورج نے مجھ پہ غصہ اتارا تمام دن
تنہائی کا خیال قریب آتا کس لیے
میں اپنا خود شریکِ سفر تھا تمام دن
یادش بخیر جب میں تِرا غم اسیر تھا
جو اشک ٹوٹتا تھا لہو کی لکیر تھا
مجھ سے چلے ہیں خون چھڑکنے کے سلسلے
میں دشت میں بہار کا پہلا سفیر تھا
وہ رو پڑا خراب و حزیں دیکھ کر مجھے
میں ہنس پڑا کہ دورِ ستم کا اخیر تھا