Sunday, 17 April 2022

تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت

 تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت

میں نے ظلمت کے طلسمات کو توڑا ہے بہت

یہ بھی کیا کم ہے کہ اس دورِ گراں خوابی میں

میں نے سوئے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے بہت

مجھے ضائع نہ کرو، میرے زمانے والو

اچھے فنکار کا اس دَور میں تھوڑا ہے بہت

اپنی تخلیق سے مایوس نہیں ہوں بیدل

میں نے اربابِ نظر کے لیے چھوڑا ہے بہت


بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment