تیشۂ عزم سے سر رات کا پھوڑا ہے بہت
میں نے ظلمت کے طلسمات کو توڑا ہے بہت
یہ بھی کیا کم ہے کہ اس دورِ گراں خوابی میں
میں نے سوئے ہوئے ذہنوں کو جھنجھوڑا ہے بہت
مجھے ضائع نہ کرو، میرے زمانے والو
اچھے فنکار کا اس دَور میں تھوڑا ہے بہت
اپنی تخلیق سے مایوس نہیں ہوں بیدل
میں نے اربابِ نظر کے لیے چھوڑا ہے بہت
بیدل حیدری
No comments:
Post a Comment