حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں
یہ وقت امتحاں ہے اور میں ہوں
مِری تنہائی کا عالم نہ پوچھو
خیال دوستاں ہے اور میں ہوں
لبوں پر مہر خاموشی ہے لیکن
نگاہوں کی زباں ہے اور میں ہوں
حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں
یہ وقت امتحاں ہے اور میں ہوں
مِری تنہائی کا عالم نہ پوچھو
خیال دوستاں ہے اور میں ہوں
لبوں پر مہر خاموشی ہے لیکن
نگاہوں کی زباں ہے اور میں ہوں
کیا خبر تھی کہ تِرے ساتھ یہ دنیا ہو گی
میری جانب مِری تقدیر ہی تنہا ہو گی
آرزو کی یہ سزا ہے کہ زمانہ ہے خلاف
ان سے ملنے کی خدا جانے سزا کیا ہو گی
مرمریں جسم کا چرچا لب و رخسار کی بات
میری کوئی تو غزل ان کا سراپا ہو گی
با وفا ہوں مِری خطا ہے یہ
جی رہا ہوں مِری سزا ہے یہ
اک تبسم ہزارہا آنسو
ابتدا وہ تھی انتہا ہے یہ
غم بہت محترم ہے میرے لیے
کیوں نہ ہو آپ کی عطا ہے یہ
دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا
میں اپنے گھر ہی میں رہتے ہوئے سفر میں رہا
وہ خاک چھاننے والوں کا درد کیا جانے
تمام عمر جو محفوظ اپنے گھر میں رہا
میں ہمکنار کبھی ہو سکا نہ منزل سے
ہمیشہ حلقۂ اخلاق راہبر میں رہا
غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں
کون سی چیز اختیار کریں
ہم بہ قید قفس چمن سے دور
کیسے اندازۂ بہار کریں
فصلِ گُل آ گئی ہے اہلِ جنوں
پھر گریباں کو تار تار کریں