Showing posts with label انجم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label انجم صدیقی. Show all posts

Sunday, 13 March 2022

حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں

 حیات رائیگاں ہے اور میں ہوں

یہ وقت امتحاں ہے اور میں ہوں

مِری تنہائی کا عالم نہ پوچھو

خیال دوستاں ہے اور میں ہوں

لبوں پر مہر خاموشی ہے لیکن

نگاہوں کی زباں ہے اور میں ہوں

Saturday, 29 January 2022

کیا خبر تھی کہ ترے ساتھ یہ دنیا ہو گی

 کیا خبر تھی کہ تِرے ساتھ یہ دنیا ہو گی

میری جانب مِری تقدیر ہی تنہا ہو گی

آرزو کی یہ سزا ہے کہ زمانہ ہے خلاف

ان سے ملنے کی خدا جانے سزا کیا ہو گی

مرمریں جسم کا چرچا لب و رخسار کی بات

میری کوئی تو غزل ان کا سراپا ہو گی

Saturday, 25 December 2021

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ

 با وفا ہوں مِری خطا ہے یہ

جی رہا ہوں مِری سزا ہے یہ

اک تبسم ہزارہا آنسو

ابتدا وہ تھی انتہا ہے یہ

غم بہت محترم ہے میرے لیے

کیوں نہ ہو آپ کی عطا ہے یہ

Friday, 24 December 2021

دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

 دماغ ان کے تجسس میں جسم گھر میں رہا

میں اپنے گھر ہی میں رہتے ہوئے سفر میں رہا

وہ خاک چھاننے والوں کا درد کیا جانے

تمام عمر جو محفوظ اپنے گھر میں رہا

میں ہمکنار کبھی ہو سکا نہ منزل سے

ہمیشہ حلقۂ اخلاق راہبر میں رہا

Friday, 9 April 2021

غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں

 غم سہیں یا خوشی کو پیار کریں

کون سی چیز اختیار کریں

ہم بہ قید قفس چمن سے دور

کیسے اندازۂ بہار کریں

فصلِ گُل آ گئی ہے اہلِ جنوں

پھر گریباں کو تار تار کریں