Showing posts with label عابد مناوری. Show all posts
Showing posts with label عابد مناوری. Show all posts

Tuesday, 16 November 2021

خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں

 خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں

زندگی کی کھلی کتاب ہوں میں

یوں تو اک جرعۂ شراب ہوں میں

گردش وقت کا جواب ہوں میں

جستجوئے سکون دل تھی مجھے

غرق دریائے اضطراب ہوں میں

Friday, 29 October 2021

بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

 بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

ایک اجڑا ہوا مکان ہوں میں

جنگ تو ہو رہی ہے سرحد پر

اپنے گھر میں لہولہان ہوں میں

غم و آلام بھی ہیں مجھ کو عزیز

قدر دانوں کا قدردان ہوں میں

Sunday, 17 October 2021

مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

 مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

مِری ناؤ بے بادباں ہے میاں

جو برقِ تپاں سے منور رہے

وہی آشیاں آشیاں ہے میاں

کہاں جائیے مے کدہ چھوڑ کر

یہی ایک جائے اماں ہے میاں

صرف کرب انا دیا ہے مجھے

 صرف کربِ انا دیا ہے مجھے

زندگی نے بھی کیا دیا ہے مجھے

مسکراتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

غم نے بزدل بنا دیا ہے مجھے

جس طرح ریت پر ہو نقش کوئی

یوں ہوا نے مٹا دیا ہے مجھے

Saturday, 16 October 2021

لالہ زاروں میں زرد پھول ہوں میں

 لالہ زاروں میں زرد پھول ہوں میں

فصلِ گل ہے مگر ملول ہوں میں

چاند تاروں کو رشک ہے مجھ پر

تیرے قدموں کی صرف دھول ہوں میں

کیوں مجھے سنگسار کرتے ہو

کب یہ میں نے کہا رسول ہوں میں

Monday, 12 July 2021

اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

 اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

جتنی بھی ہے سفر کی تھکن بھول جاؤ گے

باہر ہوائے تیز لگائے ہوئے ہے گھات

گھر سے جو نکلے اب کہ پلٹ کر نہ آؤ گے

ہر شخص اپنے آپ میں مصروف ہے یہاں

کس کو فسانۂ دلِ مضطر سناؤ گے

Saturday, 17 April 2021

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

 اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

مجھ کو ہی مہماں نوازی کا شرف بخشے گی رات

اپنے اپنے لطف سے دونوں نوازیں گے مجھے

زخمِ دل بخشے کا دن، اس پر نمک چھڑکے گی رات

آنسوؤں سے تر بہ تر ہو جائے گا آنگن تمام

کرب تنہائی پہ اپنے پھوٹ کر روئے گی رات