خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں
زندگی کی کھلی کتاب ہوں میں
یوں تو اک جرعۂ شراب ہوں میں
گردش وقت کا جواب ہوں میں
جستجوئے سکون دل تھی مجھے
غرق دریائے اضطراب ہوں میں
خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں
زندگی کی کھلی کتاب ہوں میں
یوں تو اک جرعۂ شراب ہوں میں
گردش وقت کا جواب ہوں میں
جستجوئے سکون دل تھی مجھے
غرق دریائے اضطراب ہوں میں
بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں
ایک اجڑا ہوا مکان ہوں میں
جنگ تو ہو رہی ہے سرحد پر
اپنے گھر میں لہولہان ہوں میں
غم و آلام بھی ہیں مجھ کو عزیز
قدر دانوں کا قدردان ہوں میں
مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں
مِری ناؤ بے بادباں ہے میاں
جو برقِ تپاں سے منور رہے
وہی آشیاں آشیاں ہے میاں
کہاں جائیے مے کدہ چھوڑ کر
یہی ایک جائے اماں ہے میاں
صرف کربِ انا دیا ہے مجھے
زندگی نے بھی کیا دیا ہے مجھے
مسکراتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
غم نے بزدل بنا دیا ہے مجھے
جس طرح ریت پر ہو نقش کوئی
یوں ہوا نے مٹا دیا ہے مجھے
لالہ زاروں میں زرد پھول ہوں میں
فصلِ گل ہے مگر ملول ہوں میں
چاند تاروں کو رشک ہے مجھ پر
تیرے قدموں کی صرف دھول ہوں میں
کیوں مجھے سنگسار کرتے ہو
کب یہ میں نے کہا رسول ہوں میں
اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے
جتنی بھی ہے سفر کی تھکن بھول جاؤ گے
باہر ہوائے تیز لگائے ہوئے ہے گھات
گھر سے جو نکلے اب کہ پلٹ کر نہ آؤ گے
ہر شخص اپنے آپ میں مصروف ہے یہاں
کس کو فسانۂ دلِ مضطر سناؤ گے
اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات
مجھ کو ہی مہماں نوازی کا شرف بخشے گی رات
اپنے اپنے لطف سے دونوں نوازیں گے مجھے
زخمِ دل بخشے کا دن، اس پر نمک چھڑکے گی رات
آنسوؤں سے تر بہ تر ہو جائے گا آنگن تمام
کرب تنہائی پہ اپنے پھوٹ کر روئے گی رات