Saturday, 17 April 2021

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

 اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

مجھ کو ہی مہماں نوازی کا شرف بخشے گی رات

اپنے اپنے لطف سے دونوں نوازیں گے مجھے

زخمِ دل بخشے کا دن، اس پر نمک چھڑکے گی رات

آنسوؤں سے تر بہ تر ہو جائے گا آنگن تمام

کرب تنہائی پہ اپنے پھوٹ کر روئے گی رات

چاند تاروں کو چھپا بھی لیں گھنے بادل اگر

جھلملاتے جگنوؤں سے راستہ پوچھے گی رات

سورج اپنے رتھ کو پھر آکاش پر دوڑائے گا

صبح کا تارا نکلتے ہی سمٹ جائے گی رات

جب تِرے جوڑے کا گجرا یاد آئے گا مجھے

رات کی رانی کے پھولوں سے مہک اٹھے گی رات

گھر پلٹ کر جاؤں گا رخ پر لیے دن بھر کی دھول

مجھ کو اے عابد بڑی مشکل سے پہچانے گی رات


عابد مناوری

No comments:

Post a Comment