Showing posts with label اختر سعیدی. Show all posts
Showing posts with label اختر سعیدی. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ

اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ

لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ

سوچ کو احساس پر غالب نہ کر

زندگی کو خوف سے آزاد رکھ

زندگی کی چاہتیں رعنائیاں

تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ 

Monday, 17 January 2022

مدتوں جو رہے بہاروں میں

 مدتوں جو رہے بہاروں میں

آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں

میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن

پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں

عکس تیرا دکھائی دیتا ہے

بہتے پانی کی نرم لہروں میں

Sunday, 19 December 2021

یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

 یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا

شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں

گیا موسم مِری دیوانگی کا

نہ رکھو خواہشِ چہرہ نمائی

نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا

Saturday, 18 December 2021

رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی

 رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی

ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی

تھے جس کی جستجو میں سب حریفِ کاروانِ شب

وہ راہ ہم نے ڈھونڈ لی چراغ کے بغیر بھی

محبتوں کے دِیپ ہر قدم پہ میں جلاؤں گا

ہے مجھ میں ذوقِ آگہی چراغ کے بغیر بھی

Friday, 17 December 2021

اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں

 اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں

دیکھتا ہوں کچھ کمی سی حسنِ مہر و ماہ میں

اس کے ہوتے بھی میں اک احساسِ تنہائی میں ہوں

جلوہ گر ہے وہ جو مدت سے دلِ آگاہ میں

دور ہو کر مجھ سے چلتی ہے ہوائے جاں فزا

جی رہا ہوں پھر بھی ایسے موسمِ جاں کاہ میں

Tuesday, 18 May 2021

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

 کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے

جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی

جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے

دنیا مِرے خلاف نبرد آزما رہی

لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے