اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ
لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ
سوچ کو احساس پر غالب نہ کر
زندگی کو خوف سے آزاد رکھ
زندگی کی چاہتیں رعنائیاں
تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ
اے مسافر میرا کہنا یاد رکھ
لٹ نہ جائے شہر دل آباد رکھ
سوچ کو احساس پر غالب نہ کر
زندگی کو خوف سے آزاد رکھ
زندگی کی چاہتیں رعنائیاں
تو ہمیشہ اپنے دل کو شاد رکھ
مدتوں جو رہے بہاروں میں
آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں
میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن
پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں
عکس تیرا دکھائی دیتا ہے
بہتے پانی کی نرم لہروں میں
یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا
تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا
شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں
گیا موسم مِری دیوانگی کا
نہ رکھو خواہشِ چہرہ نمائی
نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا
رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی
ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی
تھے جس کی جستجو میں سب حریفِ کاروانِ شب
وہ راہ ہم نے ڈھونڈ لی چراغ کے بغیر بھی
محبتوں کے دِیپ ہر قدم پہ میں جلاؤں گا
ہے مجھ میں ذوقِ آگہی چراغ کے بغیر بھی
اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں
دیکھتا ہوں کچھ کمی سی حسنِ مہر و ماہ میں
اس کے ہوتے بھی میں اک احساسِ تنہائی میں ہوں
جلوہ گر ہے وہ جو مدت سے دلِ آگاہ میں
دور ہو کر مجھ سے چلتی ہے ہوائے جاں فزا
جی رہا ہوں پھر بھی ایسے موسمِ جاں کاہ میں
کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے
برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے
جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی
جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے
دنیا مِرے خلاف نبرد آزما رہی
لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے