Tuesday, 18 May 2021

کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

 کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے

جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی

جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے

دنیا مِرے خلاف نبرد آزما رہی

لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے

زخمِ نگاہ، زخمِ ہنر، زخمِ دل کے بعد

اک اور زخم تجھ سے بچھڑ کر ملا مجھے

نازک خیالیوں کی مجھے یہ سزا ملی

شیشہ تراشنے کو بھی پتھر ملا مجھے


اختر سعیدی

No comments:

Post a Comment