Showing posts with label حشمت انصاری. Show all posts
Showing posts with label حشمت انصاری. Show all posts

Friday, 1 April 2022

ظلمتوں سے نہیں انوار بدلنے والے

 ظلمتوں سے نہیں انوار بدلنے والے

خود ہی ہو جائیں گے بیزار بدلنے والے

خاتمہ اب تو کہانی میں ولن کا طے ہے

چھپ نہیں پائیں گے کردار بدلنے والے

شاید اس بار قبیلے میں سکوں لوٹ آئے

خیمہ زن ہو گئے سردار بدلنے والے

Monday, 13 September 2021

خیالی پتنگے مچلتے رہے

 خیالی پتنگے مچلتے رہے

دِیے آرزوؤں کے جلتے رہے

سفر کا تسلسل تو قائم رہا

نشاں منزلوں کے بدلتے رہے

اُجالوں کی تائید کر نہ سکے

اندھیروں کے ڈر سے دہلتے رہے

Friday, 10 September 2021

بدلتے عکس ہیں شیشے نہیں بدل جاتے

 بدلتے عکس ہیں، شیشے نہیں بدل جاتے

خدا بدلنے سے سجدے نہیں بدل جاتے

گمان سارے ہوئے ہیں یقین میں تبدیل

یوں ناگہاں تو ارادے نہیں بدل جاتے

مِرے خلاف کسی نے تو ورغلایا ہے

دو ایک دن میں وہ ایسے نہیں بدل جاتے

Wednesday, 8 September 2021

ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں

 ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں

ہم بیچتے ہیں آئینہ پتھر کے شہر میں

بازار گرم ہو گیا خوف و ہراس کا

کچھ باز آ گئے ہیں کبوتر کے شہر میں

نمرودیت کا سحر مٹانے کے واسطے

اک بت شکن تو چاہئے آزر کے شہر میں

Sunday, 4 April 2021

ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر

 ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر

بجھ جائے نہ چراغ جلانے سے پیشتر

آساں نہیں ہے عشق کی منزل تلاشنا

ملتے ہیں رہ میں سانپ خزانے سے پیشتر

بڑھ جائے اضطراب مرے دل کا کیا کریں

جانے کے بعد آپ کے، آنے سے پیشتر