ظلمتوں سے نہیں انوار بدلنے والے
خود ہی ہو جائیں گے بیزار بدلنے والے
خاتمہ اب تو کہانی میں ولن کا طے ہے
چھپ نہیں پائیں گے کردار بدلنے والے
شاید اس بار قبیلے میں سکوں لوٹ آئے
خیمہ زن ہو گئے سردار بدلنے والے
ظلمتوں سے نہیں انوار بدلنے والے
خود ہی ہو جائیں گے بیزار بدلنے والے
خاتمہ اب تو کہانی میں ولن کا طے ہے
چھپ نہیں پائیں گے کردار بدلنے والے
شاید اس بار قبیلے میں سکوں لوٹ آئے
خیمہ زن ہو گئے سردار بدلنے والے
خیالی پتنگے مچلتے رہے
دِیے آرزوؤں کے جلتے رہے
سفر کا تسلسل تو قائم رہا
نشاں منزلوں کے بدلتے رہے
اُجالوں کی تائید کر نہ سکے
اندھیروں کے ڈر سے دہلتے رہے
بدلتے عکس ہیں، شیشے نہیں بدل جاتے
خدا بدلنے سے سجدے نہیں بدل جاتے
گمان سارے ہوئے ہیں یقین میں تبدیل
یوں ناگہاں تو ارادے نہیں بدل جاتے
مِرے خلاف کسی نے تو ورغلایا ہے
دو ایک دن میں وہ ایسے نہیں بدل جاتے
ہو گی ہماری قدر ہنرور کے شہر میں
ہم بیچتے ہیں آئینہ پتھر کے شہر میں
بازار گرم ہو گیا خوف و ہراس کا
کچھ باز آ گئے ہیں کبوتر کے شہر میں
نمرودیت کا سحر مٹانے کے واسطے
اک بت شکن تو چاہئے آزر کے شہر میں
ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر
بجھ جائے نہ چراغ جلانے سے پیشتر
آساں نہیں ہے عشق کی منزل تلاشنا
ملتے ہیں رہ میں سانپ خزانے سے پیشتر
بڑھ جائے اضطراب مرے دل کا کیا کریں
جانے کے بعد آپ کے، آنے سے پیشتر