ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر
بجھ جائے نہ چراغ جلانے سے پیشتر
آساں نہیں ہے عشق کی منزل تلاشنا
ملتے ہیں رہ میں سانپ خزانے سے پیشتر
بڑھ جائے اضطراب مرے دل کا کیا کریں
جانے کے بعد آپ کے، آنے سے پیشتر
بیمہ کرا ہی لیجئے سب کا ہے مشورہ
بحرِ وفا میں جست لگانے سے پیشتر
اٹھتی ہیں چار اپنی طرف دیکھ لیجئے
انگلی کسی کے سمت اٹھانے سے پیشتر
بہتر ہے دیکھ لیجئے اپنے نقوش بھی
"آئینہ ہم کو آپ دکھانے سے پیشتر"
بس ایک جام اور دے حشمت کو ساقیا
مے خانے کے چراغ بجھانے سے پیشتر
حشمت علی انصاری
No comments:
Post a Comment