Sunday, 4 April 2021

ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر

 ڈرتا ہوں دل کا حال سنانے سے پیشتر

بجھ جائے نہ چراغ جلانے سے پیشتر

آساں نہیں ہے عشق کی منزل تلاشنا

ملتے ہیں رہ میں سانپ خزانے سے پیشتر

بڑھ جائے اضطراب مرے دل کا کیا کریں

جانے کے بعد آپ کے، آنے سے پیشتر

بیمہ کرا ہی لیجئے سب کا ہے مشورہ

بحرِ وفا میں جست لگانے سے پیشتر

اٹھتی ہیں چار اپنی طرف دیکھ لیجئے

انگلی کسی کے سمت اٹھانے سے پیشتر

بہتر ہے دیکھ لیجئے اپنے نقوش بھی

"آئینہ ہم کو آپ دکھانے سے پیشتر"

بس ایک جام اور دے حشمت کو ساقیا

مے خانے کے چراغ بجھانے سے پیشتر


حشمت علی انصاری

No comments:

Post a Comment