Showing posts with label توقیر تقی. Show all posts
Showing posts with label توقیر تقی. Show all posts

Thursday, 11 July 2024

حسین لکھ کے اسے صبر کا امام پڑھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سبھی قدیم صحیفوں میں ایک نامؑ پڑھا

ہزار بار اسی نامؑ پر سلام پڑھا

جہان بھر کے فسانوں سے سرسری گزرے

مگر صحیفۂ غربت بہ احترام پڑھا

کمالِ نُطق کہ اعجازِ حُسنِ خامہ ہے

حسینؑ لکھ کے اسے صبر کا امامؑ پڑھا

Wednesday, 18 August 2021

لفظ کی قید سے رہا ہو جا

 لفظ کی قید سے رہا ہو جا

آ، مِری آنکھ سے ادا ہو جا

پھینک دے خشک پھول یادوں کے

ضد نہ کر تُو بھی بے وفا ہو جا

خشک پیڑوں کو کٹنا پڑتا ہے

اپنے ہی اشک پی، ہرا ہو جا

Wednesday, 21 July 2021

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

 یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

دل جو اس وقت مِرے ہات سے نکلا ہوا ہے

مڑ کے دیکھے بھی تو پتھر نہیں ہوتا کوئی

جانے کیا شہر طلسمات سے نکلا ہوا ہے

رات یہ کون سا مہمان مِرے گھر آیا

سارا گھر حلقۂ آفات سے نکلا ہوا ہے

Tuesday, 27 April 2021

درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے

 درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے

اس مکاں میں کچھ نہیں ہے عشق ہے

دیکھ، دشتِ یاد کا اعجاز دیکھ

میں کہیں ہوں تو کہیں ہے عشق ہے

تھک کے بیٹھا ہوں جو کُنجِ ذات میں

مہرباں کوئی نہیں ہے، عشق ہے

Saturday, 24 April 2021

روٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں

 رُوٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں

اشک بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں

سبز پیڑوں کو پتہ تک نہیں چلتا شاید

زرد پتے بھرے منظر سے نکل جاتے ہیں

اس گُزر گاہِ محبت میں کہاں آ گیا میں

دوست چُپ چاپ برابر سے نکل جاتے ہیں

Friday, 23 April 2021

کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی

 کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی

روشنی پہلے نہ تھی دل کی فضا میں ایسی

اور پھر اس کے تعاقب میں ہوئی عمر تمام

ایک تصویر اُڑی تیز ہوا میں ایسی

جیسے ویران حویلی میں ہوں خاموش چراغ

اب گزرتی ہیں تِرے شہر میں شامیں ایسی

Thursday, 22 April 2021

خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اٹھا

 خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اُٹھا

عشق کا بوجھ بھی مٹی سے اٹھا

ہجر تھا بارِ امانت کی طرح

سو یہ غم آخری ہچکی سے اٹھا

لو تِرے بعد بڑھی اشکوں کی

شعلۂ عشق بھی پانی سے اٹھا

صورت عشق بدلتا نہیں تو بھی میں بھی

 صورتِ عشق بدلتا نہیں تُو بھی میں بھی

غم کی حِدت سے پِگھلتا نہیں تو بھی میں بھی

اب زمانے میں محبت ہے تماشے کی طرح

اس تماشے سے بہلتا نہیں تو بھی میں بھی

ان سُلگتی ہوئی سانسوں کو نہیں دیکھتے لوگ

اور سمجھتے ہیں کہ جلتا نہیں تو بھی میں بھی