عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سبھی قدیم صحیفوں میں ایک نامؑ پڑھا
ہزار بار اسی نامؑ پر سلام پڑھا
جہان بھر کے فسانوں سے سرسری گزرے
مگر صحیفۂ غربت بہ احترام پڑھا
کمالِ نُطق کہ اعجازِ حُسنِ خامہ ہے
حسینؑ لکھ کے اسے صبر کا امامؑ پڑھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سبھی قدیم صحیفوں میں ایک نامؑ پڑھا
ہزار بار اسی نامؑ پر سلام پڑھا
جہان بھر کے فسانوں سے سرسری گزرے
مگر صحیفۂ غربت بہ احترام پڑھا
کمالِ نُطق کہ اعجازِ حُسنِ خامہ ہے
حسینؑ لکھ کے اسے صبر کا امامؑ پڑھا
لفظ کی قید سے رہا ہو جا
آ، مِری آنکھ سے ادا ہو جا
پھینک دے خشک پھول یادوں کے
ضد نہ کر تُو بھی بے وفا ہو جا
خشک پیڑوں کو کٹنا پڑتا ہے
اپنے ہی اشک پی، ہرا ہو جا
یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے
دل جو اس وقت مِرے ہات سے نکلا ہوا ہے
مڑ کے دیکھے بھی تو پتھر نہیں ہوتا کوئی
جانے کیا شہر طلسمات سے نکلا ہوا ہے
رات یہ کون سا مہمان مِرے گھر آیا
سارا گھر حلقۂ آفات سے نکلا ہوا ہے
درد جب سے دل نشیں ہے عشق ہے
اس مکاں میں کچھ نہیں ہے عشق ہے
دیکھ، دشتِ یاد کا اعجاز دیکھ
میں کہیں ہوں تو کہیں ہے عشق ہے
تھک کے بیٹھا ہوں جو کُنجِ ذات میں
مہرباں کوئی نہیں ہے، عشق ہے
رُوٹھ کر آنکھ کے اندر سے نکل جاتے ہیں
اشک بچوں کی طرح گھر سے نکل جاتے ہیں
سبز پیڑوں کو پتہ تک نہیں چلتا شاید
زرد پتے بھرے منظر سے نکل جاتے ہیں
اس گُزر گاہِ محبت میں کہاں آ گیا میں
دوست چُپ چاپ برابر سے نکل جاتے ہیں
کوئی تاثیر تو ہے اس کی نوا میں ایسی
روشنی پہلے نہ تھی دل کی فضا میں ایسی
اور پھر اس کے تعاقب میں ہوئی عمر تمام
ایک تصویر اُڑی تیز ہوا میں ایسی
جیسے ویران حویلی میں ہوں خاموش چراغ
اب گزرتی ہیں تِرے شہر میں شامیں ایسی
خاک ہوتی ہوئی ہستی سے اُٹھا
عشق کا بوجھ بھی مٹی سے اٹھا
ہجر تھا بارِ امانت کی طرح
سو یہ غم آخری ہچکی سے اٹھا
لو تِرے بعد بڑھی اشکوں کی
شعلۂ عشق بھی پانی سے اٹھا
صورتِ عشق بدلتا نہیں تُو بھی میں بھی
غم کی حِدت سے پِگھلتا نہیں تو بھی میں بھی
اب زمانے میں محبت ہے تماشے کی طرح
اس تماشے سے بہلتا نہیں تو بھی میں بھی
ان سُلگتی ہوئی سانسوں کو نہیں دیکھتے لوگ
اور سمجھتے ہیں کہ جلتا نہیں تو بھی میں بھی