Wednesday, 21 July 2021

یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

 یاد اور غم کی روایات سے نکلا ہوا ہے

دل جو اس وقت مِرے ہات سے نکلا ہوا ہے

مڑ کے دیکھے بھی تو پتھر نہیں ہوتا کوئی

جانے کیا شہر طلسمات سے نکلا ہوا ہے

رات یہ کون سا مہمان مِرے گھر آیا

سارا گھر حلقۂ آفات سے نکلا ہوا ہے

حجرۂ ہجر میں بیٹھا ہے جو مجذوب صفت

عرصۂ شور مناجات سے نکلا ہوا ہے

لشکری گاؤں پہ شب خون نہیں ماریں گے

حوصلہ گشت پہ کل رات سے نکلا ہوا ہے

مانتے کب ہیں بھلا اونچے مکانوں والے

شہر کا شہر مضافات سے نکلا ہوا ہے

زر کا بندہ ہو کہ محرومی کا مارا ہوا شخص

جس کو دیکھو وہی اوقات سے نکلا ہوا ہے


توقیر تقی

No comments:

Post a Comment