یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے
یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے
انفاسِ گُل و لالہ لہو بیز بہت ہے
اے مطربہ فریاد کے لے تیز بہت ہے
چل کر کسی صحرا کی کڑی دھوپ میں بیٹھو
اشجار کا سایہ تپش آمیز بہت ہے
دروازے بند کر کے جو بیٹھا ہوں گھر میں آج
دم گُھٹتا ہے، باہر کی ہوا تیز بہت ہے
گر مجھ سے خفا ہو تو سزا کیوں نہیں دیتے
مجھ کو بھری محفل سے اٹھا کیوں نہیں دیتے
ہوتا ہے فقط جن سے اندھیروں میں اضافہ
تم ایسے چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے
بیمار تمہارے لبِ دم ہیں ذرا دیکھو
تم کیسے مسیحا ہو، دوا کیوں نہیں دیتے
تیرا بیمار تِرے در سے بھی خالی جائے
کس سے پھر دردِ محبت کی دوا لی جائے
دل کے ایزل سے ہے لِپٹا ہوا کاغذ کورا
کیوں نہ پھر آپ کی تصوہر بنا لی جائے
توپ بھی، تیر بھی، تلوار بھی رکھ دیں آؤ
دل کی گِرتی ہوئی دیوار اُٹھا لی جائے