Showing posts with label حامد لطیف. Show all posts
Showing posts with label حامد لطیف. Show all posts

Tuesday, 16 June 2026

یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے

 یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے

زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے

تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا

جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے

پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا

باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے

Friday, 31 October 2025

انفاس گل و لالہ لہو بیز بہت ہے

 انفاسِ گُل و لالہ لہو بیز بہت ہے

اے مطربہ فریاد کے لے تیز بہت ہے

چل کر کسی صحرا کی کڑی دھوپ میں بیٹھو

اشجار کا سایہ تپش آمیز بہت ہے

دروازے بند کر کے جو بیٹھا ہوں گھر میں آج

دم گُھٹتا ہے، باہر کی ہوا تیز بہت ہے

Monday, 6 January 2025

گر مجھ سے خفا ہو تو سزا کیوں نہیں دیتے

 گر مجھ سے خفا ہو تو سزا کیوں نہیں دیتے

مجھ کو بھری محفل سے اٹھا کیوں نہیں دیتے

ہوتا ہے فقط جن سے اندھیروں میں اضافہ

تم ایسے چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے

بیمار تمہارے لبِ دم ہیں ذرا دیکھو

تم کیسے مسیحا ہو، دوا کیوں نہیں دیتے

Sunday, 5 January 2025

تیرا بیمار ترے در سے بھی خالی جائے

 تیرا بیمار تِرے در سے بھی خالی جائے

کس سے پھر دردِ محبت کی دوا لی جائے

دل کے ایزل سے ہے لِپٹا ہوا کاغذ کورا

کیوں نہ پھر آپ کی تصوہر بنا لی جائے

توپ بھی، تیر بھی، تلوار بھی رکھ دیں آؤ

دل کی گِرتی ہوئی دیوار اُٹھا لی جائے