Showing posts with label مجیب شہزر. Show all posts
Showing posts with label مجیب شہزر. Show all posts

Tuesday, 27 January 2026

ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

 ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے

غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے

نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے

جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی

مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے

Sunday, 11 May 2025

حادثوں نے دوستی صدیوں پرانی چھین لی

 حادثوں نے دوستی صدیوں پرانی چھین لی

معترف تھی جس کی دنیا وہ کہانی چھین لی

میرے سر پہ سایہ دیکھا جب غمِ حالات کا

ایک کرم فرما نے اپنی مہربانی چھین لی

ہو بھلا تیرا زمانے تو نے میری ذات سے

ہر تمنا چھین لی،۔ ہر شادمانی چھین لی

Friday, 7 May 2021

اے اسیر عشق تجھ کو اس کا اندازہ نہیں

اے اسیرِ عشق! تجھ کو اس کا اندازہ نہیں

یہ وہ کمرہ ہے کہ جس کا کوئی دروازہ نہیں

یہ تِری معصومیت،۔ یہ دلبری یہ سادگی

مانگ میں افشاں نہیں رُخسار پر غازہ نہیں

عشق میں کس کو ہوا ہے فیض ایسا کون ہے

کون ہے ایسا؟ اٹھایا جس نے خمیازہ نہیں

Thursday, 6 May 2021

زندگی جیسے بد دعا سائیں

زندگی جیسے بد دُعا سائیں

کوئی اعجاز کر دِکھا سائیں

غم کی چادر لپیٹ کر دیکھا

ساری دُنیا ہے بے وفا سائیں

گُونگے بہروں کے شہر میں آخر

کون سُنتا تِری صدا سائیں