ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
حادثوں نے دوستی صدیوں پرانی چھین لی
معترف تھی جس کی دنیا وہ کہانی چھین لی
میرے سر پہ سایہ دیکھا جب غمِ حالات کا
ایک کرم فرما نے اپنی مہربانی چھین لی
ہو بھلا تیرا زمانے تو نے میری ذات سے
ہر تمنا چھین لی،۔ ہر شادمانی چھین لی
اے اسیرِ عشق! تجھ کو اس کا اندازہ نہیں
یہ وہ کمرہ ہے کہ جس کا کوئی دروازہ نہیں
یہ تِری معصومیت،۔ یہ دلبری یہ سادگی
مانگ میں افشاں نہیں رُخسار پر غازہ نہیں
عشق میں کس کو ہوا ہے فیض ایسا کون ہے
کون ہے ایسا؟ اٹھایا جس نے خمیازہ نہیں
زندگی جیسے بد دُعا سائیں
کوئی اعجاز کر دِکھا سائیں
غم کی چادر لپیٹ کر دیکھا
ساری دُنیا ہے بے وفا سائیں
گُونگے بہروں کے شہر میں آخر
کون سُنتا تِری صدا سائیں