اے اسیرِ عشق! تجھ کو اس کا اندازہ نہیں
یہ وہ کمرہ ہے کہ جس کا کوئی دروازہ نہیں
یہ تِری معصومیت،۔ یہ دلبری یہ سادگی
مانگ میں افشاں نہیں رُخسار پر غازہ نہیں
عشق میں کس کو ہوا ہے فیض ایسا کون ہے
کون ہے ایسا؟ اٹھایا جس نے خمیازہ نہیں
کر سکے گا وہ بھلا کیا میرے زخموں کا علاج
زخم کی گہرائی کا بھی جس کو اندازہ نہیں
یہ تِرا بشاش چہرہ،۔ یہ تِری خندہ لبی
وقت نے شہزر دیا کیا تجھ کو غم تازہ نہیں
مجیب الرحمٰن شہزر
No comments:
Post a Comment