غزہ
وہ پھر آئیں گے
تازہ دم ہو کر
ادھیڑ دیں گے تمہارے دریدہ بدن
گولیوں کی بارش سے
تم پھر سو جاؤ گے
اور وہ پھر آئیں گے
غزہ
وہ پھر آئیں گے
تازہ دم ہو کر
ادھیڑ دیں گے تمہارے دریدہ بدن
گولیوں کی بارش سے
تم پھر سو جاؤ گے
اور وہ پھر آئیں گے
وہ جن دنوں تِرا خالی مکان شہر میں تھا
انہیں دنوں میں تِرے بے امان شہر میں تھا
نہ لوگ تھے، نہ وہ گلیاں، نہ وہ در و دیوار
نہ کوئی شہر کا نام و نشان شہر میں تھا
نہ اس سے بڑھ کے ستمگر تھا شہر بھر میں کوئی
نہ مجھ سے بڑھ کے کوئی سخت جان شہر میں تھا
کچھ عورتیں جو مارچ میں نہیں آ سکیں
وہ اک ہاتھ میں اپنا بچہ اٹھائے
تو دُوجی ہتھیلی پہ عصمت دھرے
یہی کُل اثاثہ لیے
ایک پارۂ نان و نمک کے عوض بیچنے کو کھڑی ہے
کہیں پاس ہی سے اک آواز آتی ہے