Friday, 10 September 2021

وہ جن دنوں ترا خالی مکان شہر میں تھا

 وہ جن دنوں تِرا خالی مکان شہر میں تھا

انہیں دنوں میں تِرے بے امان شہر میں تھا

نہ لوگ تھے، نہ وہ گلیاں، نہ وہ در و دیوار

نہ کوئی شہر کا نام و نشان شہر میں تھا

نہ اس سے بڑھ کے ستمگر تھا شہر بھر میں کوئی

نہ مجھ سے بڑھ کے کوئی سخت جان شہر میں تھا

تمام شہر کسی گرد باد پر تھا مقیم

زمین تھی نہ کہیں آسمان شہر میں تھا

اگر ملا بھی تو میں کُھل کے مل سکا نہ اسے

کوئی تو اس کے مِرے درمیان شہر میں تھا

میں اس شجر سے لپٹ کر ملا دعا کی طرح

وہ جس کی اوٹ میں میرا مکان شہر میں تھا


احمد مبارک

No comments:

Post a Comment