Friday, 10 September 2021

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

یاد تو ہو گا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب

دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن

اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب

اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں

پھر اسی موڑ پہ تنہا تِرے رکنے کا سبب

الوداع کہنے جو آیا تھا تِرا کیا تھا بتا

اس سے مل کر یہ تیرے پھوٹ کے رونے کا سبب

کوئی چہرہ کوئی خوشبو نہ کہیں کوئی سراب

ایسی تنہائی سے منصور الجھنے کا سبب


منصور اعجاز

No comments:

Post a Comment