Friday, 10 September 2021

لوگ جاتے ہوئے احساس دلا دیتے ہیں

 لوگ جاتے ہوئے احساس دلا دیتے ہیں

مجھ سے بیزار کہاں پھر بھی صدا دیتے ہیں

بعض اوقات بُرے لوگ حوالہ بھی بنے

بعض اوقات بھلے لوگ بھلا دیتے ہیں

اکتسابی ہی سہی، عشق کہیں نظم تو ہے

شعر میں تیرے حوالے بھی مزا دیتے ہیں

کوئی دن کے لیے جنگل سے ادھر آئے تھے

اب تِرے شہر کے لوگوں کو دعا دیتے ہی

جل پری رات کو بستر پہ قبا چھوڑ گئی

خواب ایسے بھی کئی بار جگا دیتے ہیں


عقیل عباس

No comments:

Post a Comment