لوگ جاتے ہوئے احساس دلا دیتے ہیں
مجھ سے بیزار کہاں پھر بھی صدا دیتے ہیں
بعض اوقات بُرے لوگ حوالہ بھی بنے
بعض اوقات بھلے لوگ بھلا دیتے ہیں
اکتسابی ہی سہی، عشق کہیں نظم تو ہے
شعر میں تیرے حوالے بھی مزا دیتے ہیں
کوئی دن کے لیے جنگل سے ادھر آئے تھے
اب تِرے شہر کے لوگوں کو دعا دیتے ہی
جل پری رات کو بستر پہ قبا چھوڑ گئی
خواب ایسے بھی کئی بار جگا دیتے ہیں
عقیل عباس
No comments:
Post a Comment