جو ہے باعث مِری علالت کا
ڈھونگ کرتا ہے وہ عیادت کا
لے گیا ساتھ بس کفن اپنے
زعم جس کو بڑا تھا دولت کا
میری سنجیدگی میں بھی تم کو
رنگ مل جائے گا ظرافت کا
مسئلے کا بتاؤ حل پہلے
یہ کوئی وقت ہے نصیحت کا
ملک میں محترم وہی ہے بس
جو طرفدار ہے حکومت کا
چھ دسمبر کی یاد آتی ہے
ذکر چھِڑتا ہے جب قیامت کا
داعی انسانیت کا بن انجم
ہو کے مت رہ کسی جماعت کا
شاداب انجم
No comments:
Post a Comment