چند سوچوں میں گھر گیا ہوں میں
اس لیے بھی یہ کچھ جدا ہوں میں
وہ جو پہلا تھا مر گیا مجھ میں
اب جو دِکھتا ہوں دوسرا ہوں میں
خار بن کر کہیں میں چُبھتا ہوں
یاد بن کر کہیں بسا ہوں میں
اپنے اندر ہوں دل شکستہ پر
دل شکستہ کا حوصلہ ہوں میں
یعنی گُل ہوں کسی میں صحرا کا
اور اک قحط میں کِھلا ہوں میں
ابن آدم ہوں مجھ کو پہچانو
باغِ جنت کا راستہ ہوں میں
بہتا جاتا ہوں عکس بن کے جو
آسماں سے جو آ گِرا ہوں میں
ایک عاجز ہوں دل نشیں بھی ہوں
ہاں خطا کی بھی اک سزا ہوں میں
سفر اشفاق کر کے برسوں کا
خود سے آخر ہی جا ملا ہوں میں
اشفاق انصاری
No comments:
Post a Comment