عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں
چھوڑ کر دل کو وہاں کوئی سہارا ہی نہیں
چہرگی میری بھلا کیسے ابھرنے پائے
آئینوں کو مِری تصویر گوارہ ہی نہیں
دوستوں کی تو نگاہوں پے مناظر برسیں
میری نظروں کے لیے کوئی نظارہ ہی نہیں
جیسے اس عہد کے انسان نے کھائی ہے شکست
وقت کے سامنے ایسے کبھی ہارا ہی نہیں
میں زمیں ہی کو نہ کیوں اپنا مقدر سمجھوں
آسمانوں سے اگر کوئی اشارہ ہی نہیں
اس نے دیکھا ہی نہیں گرتے ہوئے میری طرف
میں نے گرنے پہ نہال اس کو پکارا ہی نہیں
نہال رضوی
No comments:
Post a Comment