Friday, 10 September 2021

عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں

 عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں

چھوڑ کر دل کو وہاں کوئی سہارا ہی نہیں

چہرگی میری بھلا کیسے ابھرنے پائے

آئینوں کو مِری تصویر گوارہ ہی نہیں

دوستوں کی تو نگاہوں پے مناظر برسیں

میری نظروں کے لیے کوئی نظارہ ہی نہیں

جیسے اس عہد کے انسان نے کھائی ہے شکست

وقت کے سامنے ایسے کبھی ہارا ہی نہیں

میں زمیں ہی کو نہ کیوں اپنا مقدر سمجھوں

آسمانوں سے اگر کوئی اشارہ ہی نہیں

اس نے دیکھا ہی نہیں گرتے ہوئے میری طرف

میں نے گرنے پہ نہال اس کو پکارا ہی نہیں


نہال رضوی

No comments:

Post a Comment