Showing posts with label انور بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label انور بھوپالی. Show all posts

Saturday, 23 August 2025

اس کو سننے نہ دیا اور ہمیں کہنے نہ دیا

 اس کو سننے نہ دیا اور ہمیں کہنے نہ دیا

درد نے اٹھ کے کبھی آپ میں رہنے نہ دیا

اب وہ بالیدگئ روح کا سامان کہاں

غمِ دوراں نے غمِ یار بھی کہنے نہ دیا

ضبط سے کام لیا ہم نے بہت کچھ لیکن

راز کو راز مگر آہ نے رہنے نہ دیا

Tuesday, 10 June 2025

دل مست مئے جلوۂ جاناں محمد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل مست مئے جلوۂ جاناں محمدﷺ

آنکھوں میں ہے نورِ رخِ جاناں محمدﷺ

دل بن گیا آئینۂ حیرانِ محمدﷺ

صدقے تِرے اے جلوۂ جانانِ محمدﷺ

اللہ بچائے نظرِ کفر سے دل کو

پھر جوش میں ہے جذبۂ ایمانِ محمدﷺ

Sunday, 8 June 2025

مزا الم میں نہیں لطف سوز جاں میں نہیں

 مزا الم میں نہیں لطف سوزِ جاں میں نہیں

سبب یہ ہے کہ تپش پردۂ فغاں میں نہیں

شبہ اگر تمہیں آدم کی داستاں میں نہیں

تو پھر گناہ کوئی سجدۂ بُتاں میں نہیں

سب اٹھ چکے ہیں محبت میں جس قدر تھے حجاب

میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی درمیاں میں نہیں

Saturday, 16 July 2022

نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوشنوا ہوں میں

نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوشنوا ہوں میں

شکست شیشۂ دل کی مگر صدا ہوں میں

وہ جلوہ بار ہیں جس سمت دیکھتا ہوں میں

تجلیات محبت میں گھر گیا ہوں میں

نگاہ یاس مِری ترجمان دل کیوں ہو

خود آرزوئے مجسم بنا ہوا ہوں میں