اس کو سننے نہ دیا اور ہمیں کہنے نہ دیا
درد نے اٹھ کے کبھی آپ میں رہنے نہ دیا
اب وہ بالیدگئ روح کا سامان کہاں
غمِ دوراں نے غمِ یار بھی کہنے نہ دیا
ضبط سے کام لیا ہم نے بہت کچھ لیکن
راز کو راز مگر آہ نے رہنے نہ دیا
اس کو سننے نہ دیا اور ہمیں کہنے نہ دیا
درد نے اٹھ کے کبھی آپ میں رہنے نہ دیا
اب وہ بالیدگئ روح کا سامان کہاں
غمِ دوراں نے غمِ یار بھی کہنے نہ دیا
ضبط سے کام لیا ہم نے بہت کچھ لیکن
راز کو راز مگر آہ نے رہنے نہ دیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل مست مئے جلوۂ جاناں محمدﷺ
آنکھوں میں ہے نورِ رخِ جاناں محمدﷺ
دل بن گیا آئینۂ حیرانِ محمدﷺ
صدقے تِرے اے جلوۂ جانانِ محمدﷺ
اللہ بچائے نظرِ کفر سے دل کو
پھر جوش میں ہے جذبۂ ایمانِ محمدﷺ
مزا الم میں نہیں لطف سوزِ جاں میں نہیں
سبب یہ ہے کہ تپش پردۂ فغاں میں نہیں
شبہ اگر تمہیں آدم کی داستاں میں نہیں
تو پھر گناہ کوئی سجدۂ بُتاں میں نہیں
سب اٹھ چکے ہیں محبت میں جس قدر تھے حجاب
میں اب وہاں ہوں جہاں کوئی درمیاں میں نہیں
نہ کوئی نغمہ ہوں نہ ساز خوشنوا ہوں میں
شکست شیشۂ دل کی مگر صدا ہوں میں
وہ جلوہ بار ہیں جس سمت دیکھتا ہوں میں
تجلیات محبت میں گھر گیا ہوں میں
نگاہ یاس مِری ترجمان دل کیوں ہو
خود آرزوئے مجسم بنا ہوا ہوں میں