Showing posts with label حماد حسن. Show all posts
Showing posts with label حماد حسن. Show all posts

Tuesday, 11 March 2025

سو اب یہ حکم آیا ہے کہ اس بے فیض موسم

 حکم نامہ


سو اب یہ حکم آیا ہے

کہ اس بے فیض موسم

بے اماں صحرا میں رھنا ہے

سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو

شبستاں کی طرح

جنت کی مانند ہی سمجھنا ہے

Tuesday, 1 March 2022

معدے میں لہر سی اٹھی ہے ابھی

 نمکین


معدے میں لہر سی اٹھی ہے ابھی

کس نے مچھلی یہاں تلی ہے ابھی

ایک ٹکڑا بھی کھانے کو نہ ملا

صرف خوشبو ہی آ رہی ہے ابھی

شور برپا ہے اس لیے گھر میں

ساس سو کر مِری اٹھی ہے ابھی

Saturday, 26 February 2022

بیوی صلواتیں سنائے تو غزل ہوتی ہے

 نمکین غزل


بیوی صلواتیں سنائے تو غزل ہوتی ہے 

کوئی جب جان کو آئے تو غزل ہوتی ہے 

ہم پہ تنقید جو کرتے ہیں ذرا ان کو بھی 

کوئی دو ہاتھ لگائے تو غزل ہوتی ہے 

دال روٹی سے پریشان ہیں حجرے کے مکین 

مولوی مرغ چرائے تو غزل ہوتی ہے 

Tuesday, 1 February 2022

مرے شیریں سخنو لے کو مدھم نہ کرو

 مِرے شیریں سخنو

لے کو مدھم نہ کرو

مِرے شیریں سخنو

ہر ایک گام سگانِ غنیم کا غوغا

ہر ایک بام پہ آسیب قہر کا پرتو

ہر ایک موڑ شبِ ظلم کے قصیدہ گو

Thursday, 6 January 2022

عدو کی صف سے مقابل غضب کا نکلا ہے

 عدو کی صف سے مقابل غضب کا نکلا ہے

غضب تو یہ ہے کہ میرے نسب کا نکلا ہے

نہ کوئی خوابِ زلیخا، نہ کوئی تختِ عزیز

ہمارے مصر کا یوسفؑ تو کب کا نکلا ہے

عجیب لوگ ہیں سب تیرگی پہ مرتے ہیں

عجیب شہر ہے سورج بھی شب کا نکلا ہے

Wednesday, 5 January 2022

حکم نامہ زباں بندی

 حکم نامہ


سو اب یہ حکم آیا ہے

کہ اس بے فیض موسم

بے اماں صحرا میں رہنا ہے

سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو

شبستاں کی طرح

Thursday, 2 September 2021

موسم ابھی بدلنے میں وقت لگے گا

 ورثہ


تم آ کے دیکھو کہ میرے مکے کے موسم

ابھی بدلنے میں وقت لگے گا

وہ معرکۂ حق و باطل

جو مجھ کو تابندہ میراث میں ملا تھا

میں اب بھی نیک جذبوں کے ٭لاؤ لشکر