حکم نامہ
سو اب یہ حکم آیا ہے
کہ اس بے فیض موسم
بے اماں صحرا میں رھنا ہے
سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو
شبستاں کی طرح
جنت کی مانند ہی سمجھنا ہے
حکم نامہ
سو اب یہ حکم آیا ہے
کہ اس بے فیض موسم
بے اماں صحرا میں رھنا ہے
سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو
شبستاں کی طرح
جنت کی مانند ہی سمجھنا ہے
نمکین
معدے میں لہر سی اٹھی ہے ابھی
کس نے مچھلی یہاں تلی ہے ابھی
ایک ٹکڑا بھی کھانے کو نہ ملا
صرف خوشبو ہی آ رہی ہے ابھی
شور برپا ہے اس لیے گھر میں
ساس سو کر مِری اٹھی ہے ابھی
نمکین غزل
بیوی صلواتیں سنائے تو غزل ہوتی ہے
کوئی جب جان کو آئے تو غزل ہوتی ہے
ہم پہ تنقید جو کرتے ہیں ذرا ان کو بھی
کوئی دو ہاتھ لگائے تو غزل ہوتی ہے
دال روٹی سے پریشان ہیں حجرے کے مکین
مولوی مرغ چرائے تو غزل ہوتی ہے
مِرے شیریں سخنو
لے کو مدھم نہ کرو
مِرے شیریں سخنو
ہر ایک گام سگانِ غنیم کا غوغا
ہر ایک بام پہ آسیب قہر کا پرتو
ہر ایک موڑ شبِ ظلم کے قصیدہ گو
عدو کی صف سے مقابل غضب کا نکلا ہے
غضب تو یہ ہے کہ میرے نسب کا نکلا ہے
نہ کوئی خوابِ زلیخا، نہ کوئی تختِ عزیز
ہمارے مصر کا یوسفؑ تو کب کا نکلا ہے
عجیب لوگ ہیں سب تیرگی پہ مرتے ہیں
عجیب شہر ہے سورج بھی شب کا نکلا ہے
حکم نامہ
سو اب یہ حکم آیا ہے
کہ اس بے فیض موسم
بے اماں صحرا میں رہنا ہے
سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو
شبستاں کی طرح
ورثہ
تم آ کے دیکھو کہ میرے مکے کے موسم
ابھی بدلنے میں وقت لگے گا
وہ معرکۂ حق و باطل
جو مجھ کو تابندہ میراث میں ملا تھا
میں اب بھی نیک جذبوں کے ٭لاؤ لشکر